خطبات محمود (جلد 19) — Page 272
خطبات محمود ۲۷۲ سال ۱۹۳۸ء سوال کئے اور انہوں نے یہاں دریافت کرایا تو انہوں نے جواب دیا کہ نہیں ہم تو انہیں بڑا وفادار سمجھتے ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ نے انسانی دماغ میں ایسا مادہ رکھا ہے کہ وہ غریب اور کمزور کی حفاظت پر مجبور ہوتا ہے۔ضرورت صرف عقل سے کام کرنے کی ہوتی ہے اور اس بات کی کہ انسان اپنے نفس پر قابو ر کھے اور اپنی مظلومیت کو ثابت کر سکے۔اگر کوئی شخص کسی کو دس جوتیاں مارتا ہے اور وہ اسے برداشت کر لیتا ہے لیکن جب وہ گیارہویں مارنے لگے تو یہ بھی ایک اُسے ماردے۔تو جنہوں نے پہلا حال نہ دیکھا ہو اور بعد میں پہنچے ہوں وہ یہی کہیں گے کہ دونوں لڑ رہے تھے۔وہ اسے مارتا تھا اور یہ اسے۔لیکن جو گیارہویں ضرب بھی برداشت کر لے اُس کے ساتھ ہر کوئی ہمدردی کا اظہار کرے گا اور کہے گا کہ اس نے ہاتھ نہیں اُٹھایا۔پس یاد رکھو کہ مظلومیت اپنی ذات میں بڑا حملہ ہے اور یہ خود ظالم کا ہاتھ کاٹنے کیلئے کافی ہے۔اگر تم میرے ساتھ ان دو باتوں میں تعاون کرو یعنی میری ہدایات پر عمل کرتے ہوئے قربانیوں کیلئے تیار ہو جاؤ اور انتہائی مظلومیت اور قانون کی اطاعت کو برداشت کر لو تو تمہاری عزت دنیا میں اس طرح قائم ہو جائے گی کہ جو لوگ تمہیں ذلیل کرنا چاہتے ہیں وہ نامراد ہوں گے اور تم اپنی آنکھوں سے اُن کو شکست خوردہ اور میدان سے بھاگتے ہوئے دیکھ لو گے۔پھر میری نصیحت تم کو یہی ہے کہ ایک طرف تو انتہائی قربانی کیلئے تیار ہو جاؤ اور دوسری طرف ظالم بننے کی بجائے مظلوم بنو۔قادیان میں خواہ کسی قوم کا ایک ہی فردرہتا ہو وہ یہی سمجھے کہ میں بہت بڑا ہوں اور یہ لوگ میرے سامنے حقیر ہیں۔تم اپنے آپ کو بڑا مت سمجھو، تمہاری ابھی دُنیوی لحاظ سے ہستی ہی کیا ہے۔سکھ صرف چالیس لاکھ ہیں لیکن حکومت ان سے ڈرتی ہے۔احمدی اگر بیس لاکھ بھی ہوں تو ان کی عزت ظالم حکام سے بھی اور ظالم رعایا سے بھی محفوظ کی ہو جائے اور کسی کو جرات نہ ہو کہ ان کو ترچھی نگاہ سے بھی دیکھ سکے لیکن ابھی جماعت بہت کم ہے جس کی وجہ سے جو حکام اخلاقی زور سے نہیں بلکہ پولیس کے زور سے حکومت کرنے کے عادی ہیں جماعت کے حقوق کو نظر انداز کر دیتے ہیں لیکن اس قلیل جمعیت کے باوجوداگر جماعت میں کچی روح ہو تو یہ ممکن نہیں کہ حکومت کے افسر جماعت کو ڈرا لیں۔مؤمن کبھی کسی سے بھی نہیں ڈرتا ہاں ایک صورت ہے جس سے حکومت اپنا مطلب پورا کر سکتی ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر