خطبات محمود (جلد 19) — Page 262
خطبات محمود ۲۶۲ سال ۱۹۳۸ء صدرا انجمن احمدیہ کا رہنما ہونے کی حیثیت میں خود بھی اس خلاف ورزی کا گو قانونی طور پر نہیں مگر اخلاقی طور پر ذمہ دار ہو جاتا ہوں۔پس میرا فرض ہے کہ غلطی پر اس کی اصلاح کی طرف توجہ دلا ؤں۔غرض ناظروں کا یہ فرض ہے کہ شوریٰ کے فیصلوں کی پابندی کریں یا پھر ان کو بدلوالیں لیکن جب تک وہ فیصلہ قائم ہے ناظروں کا اس پر عمل کرنا ویسا ہی ضروری ہے جیسا ان کے ماتحت کلرکوں اور دوسرے کارکنوں کا ان کے احکام پر۔اگر ناظر اس طرح کریں تو بہت سے جھگڑے مٹ جاتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ صدر انجمن احمدیہ کا فرض ہونا چاہئے کہ ہر شوری کے معاً بعد ایک میٹنگ کر کے دیکھے کہ کونسا فیصلہ کسی نظارت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور پھر اسے ناظر متعلقہ کے سپرد کرے کہ اس پر عمل ہو اور وقت مقرر کر دیا جائے کہ اس کے اندراندر اس فیصلہ کی تعمیل پوری طرح ہو جائے اور پھر اس مقررہ وقت پر دوسری میٹنگ کر کے دیکھے کہ عمل ہوا ہے یا نہیں۔اس کی طرح تنقید کا سلسلہ خود بخود بند ہو جائے گا اور اگر کوئی نمائندہ غلط تنقید کرے تو میرا فرض ہے کہ اسے روکوں۔پھر بعض اوقات ناظر صحیح جواب پیش نہیں کرتے۔اب کے ایک اعتراض بجٹ کے بر وقت تیار نہ ہونے پر تھا۔اس کا جواب صاف تھا جو آخر خانصاحب فرزند علی صاحب نے اشارہ دیا مگر جب اس کے غلط جواب دیئے جا رہے تھے تو میں چوہدری سر ظفر اللہ خانصاحب سے کہہ رہا تھا کہ یہ صحیح جواب کیوں نہیں دیتے اس تأخیر کیلئے ذمہ وار تو میں ہوں۔میں نے جب بجٹ کا بہت سا کام ہو چکا تھا یہ ہدایت بھجوائی تھی کہ اس اس طرح تخفیف کر کے بجٹ پھر تیار کیا جائے اور اس لئے تاخیر کی ذمہ داری کو قبول کرنے کیلئے میں تیار تھا۔خانصاحب نے اسے بیان تو کیا مگرا شارۂ ہی۔آخر میں نے پا لوضاحت یہ کہا کہ اس کی ذمہ داری مجھ پر ہے اور نظارت کیلئے کی تو یہ امر قابل تعریف ہے کہ جب میں نے بڑھتے ہوئے اخراجات کو دیکھ کر اسے نئے سرے سے بجٹ تیار کرنے کو کہا تو اس نے دوبارہ محنت کی۔ایسے حالات میں صحیح جواب اگر دے دیا جائے کی تو بھی تنقید کا دروازہ بند ہو جاتا ہے لیکن یہ ضروری ہے کہ شوریٰ کے فیصلوں کی ناظر پوری طرح پابندی کریں۔اگر کوئی رکاوٹ دیکھیں تو میرے سامنے پیش کریں۔اگر میں اسے منسوخ کر دوں تو ان کی ذمہ داری ختم ہو جائے گی اور اگر اس کیلئے دوسری شوری بلواؤں تو بھی ان کی کی