خطبات محمود (جلد 19) — Page 261
خطبات محمود ۲۶۱ سال ۱۹۳۸ء اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے اس کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی اور جب میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قائمقام ہوں تو تم نے میری نافرمانی کیوں کی ؟ اس کی پر صحابہ نے کہا کہ ہم آپ کی اطاعت کریں گے۔انہوں نے کہا اچھا میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ اطاعت کرتے ہو یا نہیں۔چنانچہ انہوں نے آگ جلانے کا حکم دیا اور جب آگ جلنے لگی تو صحابہ سے کہا کہ اس میں کود پڑو۔بعض تو آمادہ ہو گئے مگر دوسروں نے اُن کو روکا اور کہا کہ اطاعت امور شرعی میں ہے ان کو تو شریعت کی واقفیت نہیں اس طرح آگ میں کود کر جان دینا ہے ناجائز ہے اور خدا تعالیٰ کا حکم ہے کہ خود کشی نہیں کرنی چاہئے۔جب یہ امر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہو ا تو آپ نے اس میں اُن لوگوں کی تائید کی جنہوں نے کہا تھا کہ آگ میں گو دنا جائز نہیں۔پس میں جو کہتا ہوں کہ ناظر کے دائرہ عمل میں اس کی اطاعت کرنی چاہئے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر کوئی ناظر کسی سے کہے کہ جھوٹ بولو تو اسے بولنا چاہئے۔نظارت کے شعبہ میں جھوٹ بلو ا نا شامل نہیں۔اسی طرح اگر کوئی ناظر کہے کہ کسی کو قتل کر دو تو اس میں اس کی اطاعت جائز نہیں۔اطاعت صرف شریعت کے محدود دائرہ میں ضروری ہے اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ غلطی ہر شخص کر سکتا ہے ممکن ہے کسی فیصلہ میں ناظر بھی غلطی کرے لیکن اس دائرہ میں اس کی غلطی کو بھی ماننا پڑے گا۔پس خلیفہ کا فیصلہ مجلس شوری اور نظارت کیلئے ماننا ضروری ہے۔اسی طرح شوری کے مشورہ کو سوائے استثنائی صورتوں کے تسلیم کرنا خلیفہ وقت کیلئے ضروری ہے اور جس مشورہ کو خلیفہ وقت نے بھی قبول کیا اور جسے شرعی احکام کے ماتحت عام حالتوں میں خلیفہ کو بھی قبول کرنا کی چاہئے یقیناً نظارت اس کی پابند ہے خواہ وہ غلط ہی ہو۔ہاں اگر وہ سمجھتے ہیں کہ کسی فیصلہ کی موجودگی میں وہ کام کو نہیں چلا سکتے تو ان کو چاہئے کہ اسے پیش کر کے وقت پر منسوخ کرالیں لیکن کی یہ امر واقعہ ہے کہ ہر شوریٰ میں کچھ نہ کچھ شور ضرور اٹھتا ہے کہ فلاں فیصلہ پر عمل نہیں ہوا ، فلاں قانون کو نظر انداز کر دیا گیا ہے، پھر ایسی باتوں پر کس طرح پردہ پڑ سکتا ہے۔اور جب ایک نقص ظاہر ہوتو میرا فرض ہے کہ میں نظارت کو اس نقص کے دور کرنے کی طرف توجہ دلاؤں کیونکہ میں