خطبات محمود (جلد 19) — Page 260
خطبات محمود ۲۶۰ سال ۱۹۳۸ اور اب وظائف گزشتہ وظائف کی وصول شدہ رقم میں سے دئیے جاتے ہیں یا سلسلہ کے خزانہ پر ہی بوجھ ہے اور اگر ایسا ہے تو کیوں؟ اب ظاہر ہے کہ اگر اس تنقید کا دروازہ بند کر دیا جائے تو سلسلہ کیوں تباہ نہ ہوگا اور اسے ناظروں کی بے رُعبی کے ڈر سے کیونکر روکا جاسکتا ہے۔یہ تو ایسی ہی بات ہے کہ کوئی ناظر نماز نہ پڑے اور ہم اسے کہیں تو کہا جائے کہ اس بات سے ناظروں کی بے رعبی ہوتی ہے لیکن میں کہوں گا کہ اس کے نہ کہنے سے سلسلہ کی بے رعبسی ہوتی ہے۔پس یہ اعتراض روکا نہیں جاسکتا تھا اور اس کیلئے جواب دینا ضروری تھا۔عام پارلیمنٹوں میں یہ قاعدہ ہے کہ وزراء بعض دفعہ کوئی ٹلا واں جواب دے دیتے ہیں تا اس پر مزید جرح نہ ہو سکے اور بات مخفی رہے لیکن یہاں یہ نہیں ہوسکتا۔بحیثیت خلیفہ میرا فرض ہے کہ صیح جواب دلواؤں۔پہلے اس سوال کے ایسے جواب دیئے گئے جو ٹالنے والے تھے مگر آخر اصل جواب دینا پڑا کہ اس فیصلہ پر عمل نہیں کیا گیا۔اب اگر اس میں نظارتوں کی بے رعبی ہوئی تو اس کی ذمہ دار نظارت ہے۔اگر اس قسم کی تنقید کو روک دیا جائے تو سلسلہ کا نظام ایسا گر جائے گا کہ اس کی کوئی قیمت نہ رہے گی۔اس میں شک نہیں کہ بعض دفعہ شوریٰ بھی غلط فیصلے دیتی ہے۔مثلاً اسی سال کی مجلس شوریٰ میں پہلے ایک مشورہ دیا گیا اور پھر اس کے خلاف دوسرا مشورہ دیا گیا جس کی طرف مجھے توجہ دلانی پڑی۔تو ایسی غلطیاں مجلس شوری بھی کر سکتی ہے، انجمن بھی کر سکتی ہے اور خلیفہ بھی کرسکتا ؟ ہے بلکہ بشریت سے تعلق رکھنے والے دائرہ کے اندر انبیاء بھی کر سکتے ہیں۔جو بالکل غلطی نہیں کرسکتا وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ شوری کو تنقید کا جو حق ہے وہ مار دیا جائے۔گو شوری غلطی کر سکتی ہے مگر اس سے اس کا حق باطل نہیں کیا جاسکتا۔اور ناظر بھی غلطی کر سکتے ہیں مگر ان کے دائرہ عمل میں ان کے ماتحتوں کا فرض ہے کہ ان کی اطاعت کریں۔ہاں جو امور شریعت کے خلاف ہوں ان میں اطاعت نہیں ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ ایک صحابی کی کو ایک چھوٹے سے لشکر کا سردار بنا کر بھیجا۔راستہ میں انہوں نے کوئی بات کہی جس پر بعضی صحابہ نے عمل نہ کیا ، اس پر وہ ناراض ہوئے اور کہنے لگے کہ مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم لوگوں پر امیر مقرر کیا ہے اور آپ نے یہ بھی فرمایا ہوا ہے کہ جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی کی