خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 222

خطبات محمود ۲۲۲ سال ۱۹۳۸ء مگر مسلمان کہلانے والے بھی اصلاحات کے نام سے اس کی تعلیم کو مٹانے کیلئے طرح طرح کی کی کوششیں کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اسلام کی تعلیم کو جو قرآن کریم میں ہے، بدل دیں ایسے کئی بڑے بڑے مسلمان کہلانے والے موجود ہیں اور دوسرے مسلمان ان پر فخر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ لوگ اسلام کی ترقی کے سامان کر رہے ہیں حالانکہ یہ ترقی نہیں بلکہ تنزل ہے اور ذلت ہے۔ایسے وقت میں ضرورت ہے ایک ایسی جماعت کی جو اسلام کی تعلیم کو دنیا میں پھر قائم کرے اور اسی لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا ہے۔ظاہری حالات کے لحاظ سے آپ کو ایسے وقت میں بھیجا گیا ہے کہ دنیا میں کوئی نہیں کہہ سکتا تھا دعوی عقل کے مطابق ہے۔اسلام جس صورت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم لائے مٹ چکا ہے اور ہر دنیا دار یہ سمجھتا ہے کہ پھر اسی صورت میں قائم نہیں کیا جا سکتا۔آج ایک مسلمان بھی ایسا نہیں ملے گا جو دیانت داری سے یہ سمجھتا ہو کہ اسلامی پردہ پھر دنیا میں قائم کیا جا سکتا ہے اور غیر تو کی ایک منٹ کیلئے بھی یہ خیال دل میں نہیں لا سکتے۔خود مجھے ایک بڑے سرکاری افسر نے نہایت ہی حیرت سے پوچھا کہ کیا آپ بھی یہی خیال کرتے ہیں کہ اسلامی پردہ اب دنیا میں قائم ہوسکتا ہے۔اُس کا مطلب یہ تھا کہ میں تو آپ کو عقلمند سمجھتا ہوں کیا آپ بھی ایسی جہالت کی بات کے قائل ہیں۔میں نے جواب دیا کہ پردے سے زیادہ اہم امور ہیں جن میں تبدیلی کو ناممکن سمجھا جاتا تھا مگر ان میں تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں۔میں نے اس افسر سے کہا کہ آپ تو تاریخ دان ہیں کہ کیا آپ کو ایسے امور معلوم ہیں یا نہیں کہ جن کے متعلق یہ سمجھا جاتا تھا کہ ان میں تبدیلی نہیں کی ہوسکتی مگر آخر کا ر ہو گئی۔اُس نے کہا ہاں ایسے امور تو ہیں۔میں نے کہا کہ جب مثالیں موجود ہیں تو باقی صرف یقین کی بات رہ جاتی ہے۔مجھے یہ یقین ہے کہ ایسا ہو کر رہے گا اور آپ سمجھتے ہیں کہ نہیں ہوسکتا۔آج سے ۲۵ سال قبل کون کہہ سکتا تھا کہ یورپ میں ڈیما کریسی کا خاتمہ ہو جائے گا۔آج سے ۲۵ سال قبل یہ سمجھا جاتا تھا کہ تمام بادشاہتیں مٹ کر ان کی جگہ جمہوری سلطنتیں قائم ہو جائیں گی مگر آج عَلَى الإعلان جرمنی، اٹلی اور سپین میں ڈیما کریسی کی ہنسی اُڑائی جا رہی ہے اور کہا جاتا ہے کہ کیسے بیوقوف وہ لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ ڈیما کریسی کے ذریعہ کسی ملک کی ترقی ہو سکتی ہے۔سارے افراد کہاں اتنے عقلمند ہو سکتے ہیں کہ ملکی ترقی کے وسائل کو سمجھ سکیں۔صرف