خطبات محمود (جلد 19) — Page 223
خطبات محمود ۲۲۳ سال ۱۹۳۸ء چند لوگ ہی ایسے ہو سکتے ہیں اور ان کے پیچھے چل کر ہی ترقی ہوسکتی ہے۔انگلستان کے سیاستدانوں کی آج سے صرف ۲۵ سال قبل کی کتابیں پڑھو اُن میں اس خیال کا شائبہ بھی نہیں کی ملے گا جو آج دنیا میں قائم اور رائج ہے۔ان کتابوں میں یہی ہے کہ ہم نے دنیا میں ڈیما کریسی کے اصول کو قائم کیا ہے اور آج ہم اس میں کامیاب ہو گئے ہیں اور دنیا میں یہی اصول غالب ہے۔مگر آج ان میں سے کئی ایک کی تقریریں بھی شائع ہوچکی ہیں جن میں انہوں نے کہا ہے کہ آج سوائے انگلستان کے ڈیما کریسی کے اصول کہیں بھی قائم نہیں۔کتنا بڑا فرق ہے، کتنا قلیل زمانہ اور کتنا وسیع تغیر ہے۔پس اگر دنیا کے لوگوں کی کوششوں سے دنیا کے خیالات تبدیل ہو سکتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی مدد سے کیوں نہیں ہو سکتے۔فرق صرف یقین اور ایمان کا ہے۔لوگ خیال کرتے ہیں کہ دنیا کے خیالات میں تبدیلی کا ذریعہ یو نیورسٹیاں اور بڑے بڑے بارسوخ لیڈر ہیں اور وہی دنیا کے خیالات کو بدل سکتے ہیں مگر ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی کی مدد سے یہ تغیر ہو سکتے ہیں۔تغیرات کے ہونے میں کسی کو شک نہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ اسلام کے مخالف کہتے ہیں کہ دنیا چونکہ ان باتوں کو ماننے کیلئے تیار نہیں اس لئے یہ تبدیلی نہیں ہو سکتی مگر ہم کہتے ہیں کہ چونکہ خدا تعالیٰ اس تبدیلی کا فیصلہ کر چکا ہے اس لئے یہ ہو کر رہے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے جو ارشاد فرمایا وہ اس زمانہ میں غیر ممکن نظر آتا ہے۔آج سارے کے سارے مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام اپنی اصلی صورت میں دوبارہ قائم نہیں ہوسکتا مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعوی ہے کہ اسی صورت میں اسلام دوبارہ قائم کیا جائے گا۔صرف اسلام کا نام قائم نہیں ہوگا بلکہ اس کی صورت بھی وہی ہوگی۔آج ترکی اسلام کی تعلیم میں تمام تبدیلیوں کے بعد یہ کہتا ہے کہ مسلمان کامیاب ہو گئے ، ایران تمام تغیرات کے با وجو دمسلمانوں کی کامیابی کا دعویٰ کرتا ہے، ان ممالک میں سو د قائم کیا گیا ہے، پردہ اُڑا دیا کی گیا ہے ، قرآن کریم کو عربی میں پڑھنے سے روکا جاتا ہے ، عربی کریکٹر اور حروف کو مٹانے کی کی پوری کوشش کی جاتی ہے، ایشیائی خصوصاً عربی لباس کو مٹانے کی پوری کوشش کی جاتی ہے اور ان سب باتوں کے باوجود کہا یہ جاتا ہے کہ ہم مسلمان ہیں اور ہماری فتح اسلام کی فتح ہے۔حالانکہ ان ممالک کی فتح اسلام کی فتح نہیں کہی جاسکتی۔انگریزوں کو اگر فتح ہو تو یہ کسی مذہب کی فتح نہیں بلکہ