خطبات محمود (جلد 19) — Page 187
خطبات محمود ۱۸۷ سال ۱۹۳۸ اور کوئی نہیں۔آدم سے لے کر آج تک ہزاروں سال میں یا سائنسدانوں کے قول کے مطابق لاکھوں اور کروڑوں سال میں ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہ کسی نے صدق دل سے خدا تعالیٰ پر اعتماد کیا ہوا اور خدا تعالیٰ نے اس کے اعتماد کو ضائع کر دیا ہو لیکن ایسی ہزاروں نہیں لاکھوں مثالیں ملتی ہیں کہ خدا نے بندوں پر اعتماد کیا مگر بندوں نے اس سے غداری اور بے وفائی کی۔پس یہ ناممکن ہے کہ تم خدا تعالیٰ پر اعتماد کرو اور وہ تمہیں چھوڑ دے۔ہاں یہ ممکن ہے کہ خود تمہارے دل میں کوئی گند پیدا ہو جائے اور تم اسے چھوڑ دو کیونکہ خدا بے وفا نہیں لیکن بندے بے وفا ہو سکتے ہیں۔پس اگر حقیقی طور پر تم اس مقام پر کھڑا ہونا چاہتے ہو تو قربانیاں کرو اور کرتے چلے جاؤ اور یہ مت کہو کہ قربانیوں کا زمانہ لمبا ہو گیا۔آج خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جمالی رنگ میں مبعوث فرما کر چاہا ہے کہ مسلسل اور متواتر قربانیوں سے تمہارے ایمانوں کو مضبوط کرے۔اگر تم تھوڑی سی قربانی کرتے یا ایک عرصہ تک قربانیاں کرنے کے بعد اپنا قدم پیچھے ہٹا لیتے ہو تو تمہاری مثال بالکل اُس شخص کی سی ہے جو چشمہ کے پاس پہنچ کر اُس سے پیاسا واپس کو تھا کہ ہے اور اپنے آپ کو ہلاک کر لیتا ہے۔اگر تم بھی ایک نبی پر ایمان لا کر ایسے ہی ٹھہرے تو تم سے زیادہ بد قسمت اور کون ہوسکتا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو جہاں اور نصائح فرمائی ہیں وہاں ایک نصیحت یہ بھی کی ہے کہ تم اُس عورت کی طرح مت بنو جو سوت کا تا کرتی کی اور پھر اسے کاٹ کاٹ کر ضائع کر دیا کرتی تھی۔تم کبھی قربانیاں کرتے ہو اور ایک عرصہ تک کرتے رہتے ہو مگر جب ایسے مقام پر پہنچنے لگتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے فضل نازل ہونے کا وقت آ پہنچتا ہے تو تم اپنا قدم پیچھے ہٹا لیتے ہو اور اس طرح الہی فضلوں سے محروم ہو جاتے ہو۔قرآن کریم میں اس عورت کا جو ذکر کیا گیا ہے یہ ایک مثال ہے جو خدا تعالیٰ نے دی۔چنا نچہ اہلِ عرب کا یہ محاورہ ہے کہ جب وہ کسی شخص کے متعلق یہ کہنا چاہیں کہ اس نے کام کرتے کرتے بگاڑ دیا تو یوں کہتے ہیں کہ اس کی مثال اس عورت کی طرح ہے جو موت کا نتی اور پھر اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی تھی۔لوگوں نے اس محاورہ کو ایک حکایت کا رنگ بھی دے دیا ہے۔چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ ایک امیر عورت تھی جو خود بھی سوت کا تی اور دوسروں سے بھی کتواتی۔