خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 188 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 188

خطبات محمود ۱۸۸ سال ۱۹۳۸ء جب بہت سائوت اس کے پاس اکٹھا ہو جاتا تو غرباء میں برابر تقسیم کرنے کیلئے سوت کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی اور اس طرح ساری محنت ضائع کر دیتی۔بظا ہرا اپنی طرف سے وہ انصاف کرتی تھی اور کہتی تھی کہ میں کسی کو زیادہ اور کسی کو کم کیوں دوں۔مگر اپنی حماقت سے اٹی بیچ میں سے کاٹ دیتی اور بالشت بھر کسی کو دے دیتی اور بالشت بھر کسی کو اس طرح نہ غرباء کو فائدہ ہوتا ، نہ اسے ثواب ہوتا۔تو اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ تم اس عورت کی طرح مت بنو الَّتِي نَقَضَتْ غَزَلَها مِن بَعْدِقُوةٍ انْكَانَاء " جو سوت کات کات کر بعد میں اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی اور اپنی تمام محنت ضائع کر دیتی۔تم میں سے بھی بعض خدمت دین کرتے اور اپنی ہمت اور توفیق کے مطابق خدا تعالیٰ کے سلسلہ کی مدد کرتے ہیں مگر پھر کسی گناہ کی وجہ سے یا سستی اور غفلت اور بے ایمانی کی وجہ سے یا خدا تعالیٰ پر بے اعتمادی کی وجہ سے ان قربانیوں کو ایسے وقت میں ضائع کر دیتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کے انعامات نازل ہونے کا وقت قریب ہوتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگو اور اس کی سے دعا کرو کہ وہ تمہیں گالتي نقضت غزلها مِن بَعْدِ قُوَّةِ انْكًا ثاء کا مصداق نہ بنائے۔تمہاری قربانیوں کو قبول فرمائے اور تمہیں تو فیق عطا فرمائے کہ تم قربانیوں کے میدان میں آگے ہی آگے قدم اُٹھاتے چلے جاؤ۔پھر قادیان والوں کو اور باہر کی جماعتوں کو بھی دعائیں کرنی چاہئیں کہ ہم اس طریق کو اختیار کریں جو اللہ تعالیٰ کے منشاء کے مطابق اور اسلام اور احمدیت کو مضبوط کرنے والا ہو اور ان راہوں پر چلنے سے محفوظ رکھے جو اسلام اور احمدیت کیلئے مضر ہوں۔ہماری غفلتوں کو معاف کرے، ہماری کوتاہیوں سے درگزر کرے اور ہمیں اپنے فضل سے ہدایت دے کر اپنی خوشنودی اور رضا کی راہوں پر چلنے کی توفیق دے۔آمین ( الفضل ۲۳ مارچ ۱۹۳۸ ء ) مَا كُنْتَ نَادِيًا في أَهْلِ مَدْيَنَ وَمَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّورِ (القصص: ۴۶ ، ۴۷) الاحزاب:۱۴ ۵ ال عمران: ۱۷۴ ال عمران: ۱۶۸ البقرة : ١٢ تا ١٤ ل العنكبوت: ٧٠ ك الجمعة: سیرت ابن ہشام جلد ۲ صفحه ۳۹۳،۳۹۲۔مطبوعہ قاہر ۱۹۶۴۰ء