خطبات محمود (جلد 19) — Page 177
خطبات محمود 122 سال ۱۹۳۸ء ہیں یا اوقات کی قربانیاں ہیں یا عزت و وجاہت کی قربانیاں ہیں۔یا مثلاً یہ قربانی ہے کہ گالیاں سنو اور خاموش رہو، ماریں کھاؤ اور ہاتھ نہ اُٹھاؤ۔آخر گالیاں سُننا بھی موت سے کوئی کم قربانی نہیں۔جن کے دلوں میں سچی محبت ہوتی ہے وہی جانتے ہیں کہ جب ان کے محبوب کو کوئی گالی دیتا ہے تو اُن کو کس قدر اذیت پہنچتی اور ان کیلئے یہ بات کتنے بڑے دکھ اور درد کا موجب ہوتی ہے۔پس صرف دوسرے سے لڑ کر اپنی جان دے دینا موت نہیں بلکہ گالیاں سُن کر اپنے نفس کو قابو میں رکھنا بھی ایک موت ہے اور یہ پہلی موت سے ہر گز کم نہیں۔جن لوگوں کے دلوں میں عشق کی ہوتا ہے وہی جانتے ہیں کہ ان کی کیا حالت ہوتی ہے۔اُس وقت وہ اپنی جان دے دینے کو صبر کرنے کی نسبت بدرجہا آسان سمجھتے ہیں مگر بہر حال انہیں صبر کرنا ہی پڑتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کا حکم یہی ہوتا ہے کہ صبر کرو۔میں نے مولوی رحمت علی صاحب مبلغ جاوا کا واقعہ کئی دفعہ سنایا ہے۔ایک دفعہ فساد کرانے کی غرض سے کسی نے یہاں یہ خبر مشہور کر دی کہ نیر صاحب مارے گئے ہیں اور پیر یوسف جو بھٹے والے ہیں ان کا اور ایک دو اور احمدیوں کا نام لیا کہ وہ زخمی تڑپ رہے ہیں۔نیر صاحب اُن دنوں غالباً بورڈنگ میں سپرنٹنڈنٹ تھے۔لڑکوں نے جونہی اس خبر کو سنا وہ سٹکیں لے کر اس کی طرف کو اُٹھ دوڑے۔میں اُس وقت اتفاقاً ( حضرت اماں جان کے دالان میں ٹہل رہا تھا۔دوڑنے کی آواز جو آئی تو میں یہ دیکھنے کیلئے کہ کیا ہو اگلی کی طرف گیا اور دیکھا کہ لڑکے بے تحاشا دوڑے چلے جا رہے ہیں اور ان کے آگے آگے مولوی رحمت علی صاحب ہیں۔میں نے مولوی صاحب کو آواز دی کہ ٹھہر و مگر مولوی صاحب نہ رُکے۔اس پر میں نے پھر آواز دی تو وہ ٹھہر گئے۔میں نے کہا کیا ہوا؟ وہ کہنے لگے حضور خبر آئی ہے کہ نیر صاحب کو ہندوؤں نے مار دیا ہے اور بعض اور احمدی زخمی تڑپ رہے ہیں۔میں نے کہا جب یہ خبر تمہارے پاس پہنچی تھی تو تمہارا فرض تھا کہ مجھ تک بات پہنچاتے۔یہ تمہارا کام نہیں تھا کہ اُس طرف اُٹھ بھاگتے۔میں اس واقعہ کی تحقیقات کراؤں گا تم آگے مت جاؤ۔اتفاقاً اُسی وقت قاضی عبد اللہ صاحب اس طرف سے گزررہے تھے۔میں نے انہیں بھیجا کہ جا کر پتہ لگا ئیں اور انہیں اطمینان دلا کر میں پھر کمرہ میں ٹہلنے لگا۔تو اتنے میں پھر مجھے شور کی آواز آئی اور میں نے دیکھا کہ مولوی رحمت علی صاحب