خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 175 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 175

خطبات محمود ۱۷۵ سال ۱۹۳۸ ایسے شخص کو نہ تو دنیا حاصل ہوتی ہے اور نہ دین حاصل ہوتا ہے۔دنیا کو وہ ناراض کر لیتا ہی ہے اس ظاہری دین کی وجہ سے جو اس کے پاس ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کو ناراض کر لیتا ہے،اس باطنی گندگی کی وجہ سے جو اُس کے دل میں پائی جاتی ہے حالانکہ سنجیدگی اور ظاہر و باطن کی یکسانیت دنیا میں سب نیکیوں کی جڑ ہے۔اگر کوئی کا فرسنجیدہ نہیں تو وہ اس کا فر سے بُرا ہے جو سنجیدہ ہے اور اگر کوئی مؤمن سنجیدہ نہیں تو نہ صرف وہ اس مؤمن سے بُرا ہے جو سنجیدہ ہے بلکہ سنجیدہ کا فر سے بھی بُرا ہے۔ایک شخص جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جھوٹا سمجھتا ہے وہ با وجود بچے طور پر آپ کو جھوٹا سمجھنے کے بُرا ہے۔مگر بہر حال وہ اُس کا فر سے اچھا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جھوٹا بھی سمجھتا ہے اور مخفی طور پر مسلمانوں سے سمجھو تہ بھی کرنا چاہتا ہے۔بظاہر وہ نرم مزاج نظر آتا ہے لیکن اصل میں وہ نرم نہیں۔اسی طرح وہ مؤمن جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا نبی سمجھتا ہے اور ہر قسم کی قربانی کیلئے تیار رہتا ہے ، وہ تو اعلیٰ درجہ کا انسان ہے لیکن وہ شخص جو مؤمن کہلاتا ہے مگر دشمنوں سے ساز باز بھی رکھتا ہے یا وعدہ کرتا اور پھر پورا نہیں کرتا یا کسی اور رنگ کی میں اپنے ایمان کی کمزوری کا مظاہرہ کرتا ہے ، وہ اُس کافر سے بدتر ہے جو سنجیدگی سے اپنے کفر پر قائم ہے۔کیونکہ گوا سے غلطی لگی مگر وہ اپنے نقطۂ نگاہ سے سچائی پر تو قائم ہے۔( سچائی سے مراد میری اس جگہ حقیقی سچائی نہیں بلکہ وہ سچائی مراد ہے جس کو وہ سچا سمجھتا ہے ) وہ تو خدا تعالیٰ سے قیامت کے دن کہہ سکتا ہے کہ خدایا! مجھے دھوکا لگا میں سمجھتا رہا کہ میں بچے راستہ پر قائم ہوں حالانکہ یہ بات درست نہ تھی۔مگر منافق کیا کہے گا۔کیا وہ یہ کہے گا کہ میں نے تو سمجھا تھا کہ فلاں شخص خدا کا رسول ہے مگر میں نے اس کے احکام کی اطاعت نہ کی۔یا وہ کا فر کیا کہے گا جس نے کفر کے باوجود اندرونی طور پر مسلمانوں سے فائدہ اُٹھانا چاہا۔کیا وہ کہہ سکتا ہے کہ میں نے سچے دل سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جھوٹا سمجھا تھا خدا کہے گا اگر تو سچے دل سے جھوٹا سمجھتا تھا تو اندرونی طور پر مسلمانوں سے ساز باز کیوں کرتا رہا ؟ تو دنیا میں ساری نیکیوں کی جڑ سچائی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ جولوگ سچے دل سے ایک بات پر قائم ہوں چاہے وہ غلط راستے پر ہی کیوں نہ ہوں اللہ تعالیٰ بالآخر انہیں ضرور ہدایت دے دیتا ہے۔وہ فرماتا ہے وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِ يَنَّهُمْ سُبُلَنا ، ل وه لوگ