خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 174 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 174

خطبات محمود ۱۷۴ سال ۱۹۳۸ء خواہ مخواہ لڑائی کر کے فساد کر رہے ہیں، ہم بیوقوف کیوں بنیں۔ہم جانتے ہیں کہ لڑائی کا موقع کی نہیں ہے، صلح ممکن ہے۔فرماتا ہے افسوس کہ یہ لوگ جانتے نہیں ورنہ خود ان کا یہ قول بیوقوفی کا ہے۔تو یہ تینوں قسم کی حالتیں منافقوں کی طرف سے ظاہر ہوتی ہیں اور منافق ہمیشہ ایسے وسوسے پیدا کرتا رہتا ہے جن کے نتیجہ میں قوم کا قدم قربانیوں کے میدان میں سُست ہو جائے لیکن مومن کا قدم ہمیشہ آگے کی طرف اُٹھتا ہے اور وہ ہمیشہ اس امر کی کوشش کرتا ہے کہ اپنے وعدہ کو کی اور اُس عہد کو جو اس نے خدا تعالیٰ سے کیا ہے پورا کرے۔اس دوران خواہ اسے مشکلات پیش آئیں یا راحت میسر ہو ، دونوں اس کیلئے برابر ہوتی ہیں کیونکہ اس کی اصل خواہش یہ ہوتی ہے کہ میرا خدا مجھ سے راضی ہو جائے۔اگر راحت آئے تو اس کی وجہ سے قربانیوں میں سُست نہیں ہو جاتا اور اگر تکلیف آئے تو گھبرا تا نہیں بلکہ اپنے ایمان میں بڑھ جاتا ہے۔جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آلذين قال لَهُمُ النَّاسُ انّ النّاس قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ ۵ یعنی مومن وہ ہیں کہ جب ان سے لوگ کہتے ہیں کہ سب تو میں تمہارے خلاف جمع ہو گئی ہیں اس لئے تم اب لوگوں کی سے ڈر کر نرم پڑ جاؤ۔تو بجائے اس کے کہ وہ ڈریں یہ بات ان کو ایمان میں اور بھی بڑھا دیتی ہے اور وہ کہتے ہیں اللہ ہمارے لئے کافی ہے اور وہ سب سے بہتر کارساز ہے۔غرض مصیبت آئے تو تب بھی مؤمن اپنے ایمان میں بڑھ جاتا ہے اور اگر راحت ملے تب بھی وہ غافل نہیں ہوتا کیونکہ ہر بات میں اسے اللہ تعالیٰ کا ہاتھ کام کرتا دکھائی دیتا ہے۔جب تک کسی شخص کے اندر یہ ایمان پیدا نہ ہو، جب تک بچے طور پر وہ یہ نہ سمجھے کہ اس کا کام جہاں ایک طرف اپنے نفس کی اصلاح کرنا ہے وہاں دوسری طرف تمام دنیا سے روحانی جنگ کرنا ہے اس وقت تک وہ خطرہ کی حالت میں ہوتا ہے اور اس بات کا امکان ہوتا ہے کہ وہ اس کی مقام کو کھو بیٹھے جو اسے خدا تعالیٰ کی طرف سے ملا ہے۔گویا اس کی وہی مثال ہو جائے جو کسی کی شاعر نے اس طرح بیان کی ہے کہ خدا ہی ملا وصالِ صنم نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے