خطبات محمود (جلد 19) — Page 17
خطبات محمود ۱۷ سال ۱۹۳۸ء نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں اور جب انہوں نے اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے رستہ میں فنا کر کے ہر قسم کے خطرات سے محفوظ کر لیا تو اپنی خیر خواہی کے بعد ان کے اندر یہ طاقت اور ہمت پیدا ہوگئی کہ وہ دنیا کی خیر خواہی کر سکیں۔ایک شخص جو تیرنا سیکھتا ہے سب سے پہلے اپنی جان بچاتا ہے اور جو اپنی جان کو بچالیتا ہے وہی اس قابل ہوتا ہے کہ دوسروں کو بچا سکے۔اگر وہ اپنی جان کو نہ بچا سکے تو کسی صورت میں بھی دوسروں کو بچانے کے قابل نہیں ہوسکتا۔مگر وہی تیر نے والا جو کی اپنی جان بچانے کے سامان پیدا کر کے دوسروں کی جان بچانے کی کوشش کرتا ہے جب ایک ڈوبنے والے شخص کو بچانے کی کوشش کرتا ہے تو ڈوبنے والے کا مقدم کام یہ ہوتا ہے کہ اُسے ڈبوتا ہے اور یہ دنیا میں ایک عام قاعدہ ہے۔ڈوبنے والے کے حواس چونکہ قائم نہیں ہوتے اس لئے اپنے آپ کو بچانے کیلئے وہ عقل کے ساتھ ہاتھ پیر نہیں مارتا بلکہ ہمیشہ ایسے رنگ میں ہاتھ پیر مارتا ہے کہ اسے بچانے والا بھی ساتھ ہی ڈوبنے لگے۔مجھے ایک واقعہ بچپن کا یاد ہے۔ایک دفعہ یہاں ڈھاب میں ایک کشتی الٹ جانے کی وجہ سے کچھ آدمی ڈبکیاں کھانے لگے۔انہیں بچانے کیلئے کچھ اور آدمی گو دے لیکن ان کو ڈوبنے والوں نے پکڑ کر اس طرح ساتھ گھسیٹا کہ ان کے ناک اور منہ میں پانی پڑنے کی وجہ سے وہ بھی خطرے میں پڑ گئے۔اس پر کچھ اور لوگ گودے اور قریباً اٹھارہ آدمی اس طرح ڈبکیاں کھانے کی لگے۔آخر ایک اچھے تیراک نے بعض دوسرے ہلکے تیرا کوں کو سہارا دے کر سانس دلایا اور پھر ان کی مدد سے اس طرح پکڑ پکڑ کر ڈوبنے والوں کو نکالنا شروع کیا کہ وہ اُن کو ساتھ نہ ڈبوسکیں۔تو یہ لازمی بات ہے کہ جو شخص دوسرے کو بچانا چاہتا ہے، ڈوبنے والا اُسے ضرور ڈبونے کی کوشش کرتا ہے۔اس کے حواس چونکہ معطل ہوتے ہیں اس لئے وہ بچانے والے کو یا تو اپنا دشمن سمجھتا ہے یا اگر دوست بھی سمجھتا ہے تو ایسے رنگ میں اُس پر بوجھ ڈالتا ہے کہ وہ اُٹھا نہ سکے اور اس طرح اپنے ساتھ اسے بھی ڈبونے کی کوشش کرتا ہے۔کثرت سے ایسی مثالیں ملتی ہیں اور ہر مہینہ ہی اخبارات میں کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ شائع ہوتا ہے کہ ایک شخص ڈوبنے والے کو بچانے کے لئے گیا مگر خود ڈوب گیا اور ڈوبنے والا بچ گیا۔پس یہ ایک عام قانون ہے جس سے دنیا آزاد نہیں ہوسکتی۔یعنی جو اپنی ذات کا خیر خواہ نہیں وہ دنیا کا خیر خواہ نہیں ہوسکتا اور جو دنیا کا کی