خطبات محمود (جلد 19) — Page 152
خطبات محمود ۱۵۲ سال ۱۹۳۸ء 9966 گالیاں دیتے ہیں اور اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دینے کیلئے راستہ صاف کرتے ہیں۔اگر ان میں تقویٰ ہوتا تو وہ یہ غور کرتے کہ آخر اس شخص کو ہر بات میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کیوں مشابہت حاصل ہو رہی ہے اور سمجھتے ہیں کہ آخر کیا بات ہے کہ جو مجھ پر اعتراض کرتا ہے وہ مجبور ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بھی اعتراض کرے۔مصری صاحب نے اپنے اشتہار ” بڑا بول“ میں میرے ان الفاظ کو کہ ”مجھے یہ یقین ہے کہ جو شخص مجھے چھوڑتا ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو چھوڑتا ہے اور جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو چھوڑتا ہے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑتا ہے اور جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑتا ہے وہ خدا تعالیٰ کو چھوڑتا ہے، ” بڑی تعلی اور بڑا غلو کہا ہے۔مگر وہ دیکھ لیں کہ جو اعتراض وہ مجھ پر کرتے ہیں اس سے زیادہ سخت اعتراض حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر پڑتا ہے یا نہیں۔اور یہ امر اس الہی قانون کے ماتحت ہے کہ جب تم ایک صداقت پر حملہ کرو تو وہ حملہ ضرور دوسری صداقت پر بھی پڑھتا ہے۔خلاصہ یہ کہ اگر اس قسم کے فقروں سے ذلت ہوسکتی ہے جو ہائیکورٹ کے فیصلہ میں تھے تو مصری صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق کیا کہتے ہیں۔کیونکہ جو فقرے میرے متعلق لکھے گئے ہیں ان سے زیادہ سخت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق لکھے گئے ہیں۔پس اس واقعہ سے تو میری حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مشابہت ثابت ہوتی ہے نہ یہ کہ مجھ پر اعتراض پڑتا ہے۔بلکہ عقلمند انسان کیلئے تو اس فیصلہ میں ایک سے زیادہ مشابہتیں ہیں۔وہ مشابہت ہے جو میں بتا چکا ہوں۔یعنی ایک ہی قسم کے الفاظ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق اور میرے متعلق عدالت نے استعمال کئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بھی سازش قتل کا الزام لگایا گیا اور میرے متعلق بھی ، اور اسی سلسلہ میں یہ الفاظ لکھے گئے۔جن مجسٹریٹ صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق اس قسم کے الفاظ استعمال کئے تھے ان کا نام کیپٹن ڈگلس تھا۔اور جس بینچ نے میرے متعلق اس قسم کے لفظ استعمال کئے ہیں ان کا نام بھی سر ڈگلس ہے۔-٣