خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 15

خطبات محمود ۱۵ سال ۱۹۳۸ء تو اگر دُور کی جماعتیں اس عرصہ میں کام کر سکتی تھیں تو کیا وجہ ہے کہ قریب کی جماعتیں فہرست مکمل نہ کر سکیں اور اس خیال میں بیٹھی رہیں کہ ابھی کافی وقت ہے۔پس محض اس لئے سستی کرنا کہ ۳۱/ جنوری ۱۹۳۸ ء تک ابھی کافی وقت ہے ایک خطر ناک علامت ہے۔جس کا نتیجہ بعض دفعہ یہ نکلتا ہے کہ انسان آخری وقت میں بھی شامل نہیں ہوسکتا اور ثواب حاصل کرنے سے محروم رہ جاتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جو تین صحابی ایک جنگ سے پیچھے رہ گئے تھے وہ اس لئے پیچھے رہے تھے کہ پہلے وہ خیال کرتے رہے کہ ابھی کافی وقت ہے ہم تیاری کر لیں گے۔مگر آخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جہاد کیلئے چل پڑے اور چونکہ ان کی تیاری مکمل نہیں تھی اس لئے وہ محروم رہ گئے کے پس میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں وہ ہوشیار ہو جائیں اور اپنے اپنے وعدے جلد لکھ کر دفتر میں بھجوا دیں اور جس جماعت کے دوست یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے سیکرٹری سست ہیں میں انہیں کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جو ثواب کے مواقع آتے ہیں وہ سیکرٹریوں اور پریذیڈنٹوں کیلئے نہیں ہوتے بلکہ ہر شخص کیلئے ہوتے ہیں۔پس وہ اپنے آپ کو سلسلہ کے کاموں کا ذمہ دار سمجھتے ہوئے سیکرٹری اور پریذیڈنٹ تصور کر لیں اور کام شروع کر دیں۔خدا تعالیٰ کے نزدیک وہی سیکرٹری اور وہی پریذیڈنٹ ہوں گے۔پس تم دوسروں کے مونہوں کی طرف مت دیکھو۔تم اپنی زبان کو خدا کی زبان اور اپنے ہاتھوں کو خدا کا ہاتھ سمجھوتا اللہ تعالیٰ کی رحمت تم پر نازل ہو۔میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہماری جماعت سے شرک کو گلی طور پر دور کر کے توحید کامل کا مقام ہمیں عطا کرے۔ہمیں کچی قربانیوں کی توفیق دے اور ہم میں سے ہر شخص کا حوصلہ اتنا بڑھائے کہ وہ سمجھے کہ سلسلہ کی تمام ذمہ داریاں اُسی پر ہیں اور دوسروں کی شستی ہماری پستی کو دور کرنے والی نہ ہو بلکہ ہماری چستی دوسروں کی شستی کو دور کرنے والی ہو۔( الفضل ۱۳ جنوری ۱۹۳۸ء ) اللَّهُمَّ مِينَ الانعام: ۹۲ پھسڈی: کچھڑا ہوا۔شکست خوردہ۔آخری۔ناقص۔کم درجہ بخاری کتاب المغازى باب حدیث کعب بن مالک