خطبات محمود (جلد 19) — Page 130
خطبات محمود ۱۳۰ سال ۱۹۳۸ء کوئی بھی عقلمند اس استدلال کو درست قرار دے گا اسی طرح جن باتوں کی میں نے اس میں تردید کی ہے اور جنہیں اپنی تعلیم ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے خلاف بتایا ہے اور کہا ہے کہ جو اِن کو نہیں چھوڑ تا وہ قرآن کریم اور اسلام کی نافرمانی کرتا ہے۔انہی باتوں کو انہوں نے میری طرف منسوب کر دیا اور جن فقرات میں۔باتیں دوسروں کی طرف بتائی گئی تھیں ، انہیں اُڑا دیا۔اب اس کے مقابلہ میں اگر تم بھی کہو کہ ہم بھی یہی طریق اختیار کریں گے اور ہم بھی اسی طرح انہیں بد نام کریں گے تو بتاؤ اس کا فائدہ کیا ہوا اور پھر تم کس طرح کہہ سکتے ہو کہ تم جیتے ، جبکہ واقعہ یہ ہوگا کہ تمہارا دشمن جیت گیا ہوگا کیونکہ شیطان کی تو غرض ہی یہی ہے کہ وہ تمہیں سچائی سے منحرف کر کے جھوٹ کے راستہ پر ڈال دے۔پس اگر تم اسی کا تتبع کر کے جھوٹ کو اختیار کر لو تو بہر حال فتح تمہاری نہ ہوئی بلکہ تمہارے دشمن کی ہوئی۔تمہارا کام تو یہ ہے کہ تم اپنے مقام پر مضبوطی سے کھڑے رہو اور دشمن کے مقابلہ میں بھی جھوٹ اور فریب سے کام نہ لو۔دشمن اگر ان کی ہتھیاروں کو استعمال کرتا ہے تو بے شک کرے کیونکہ جب کسی انسان کا دل تقویٰ سے خالی ہو جاتا ہے اور بغض اس کی بصیرت کے آگے دیوار بن کر حائل ہو جاتا ہے تو وہ عداوت اور دشمنی میں بڑھتا چلا جاتا ہے۔آج ہی میرے پاس ایک شکایت پہنچی ہے کہ مصری صاحب کے بعض ساتھی ایک جگہ کھڑے تھے کہ انہوں نے میری تصویر لے کر اس کی ایک آنکھ چاقو سے چھید دی اور اس کے نیچے رنجیت سنگھ کا نام لکھ دیا اور ایسی جگہ پھینک دیا جہاں سے احمدی اسے اُٹھا لیں۔یہ شکایت پہنچانے والے دوستوں نے لکھا ہے کہ ہمیں یہ دیکھ کر سخت غصہ اور جوش آیا حالانکہ اس میں جوش کی کون سی بات تھی۔دشمن جب عداوت میں اندھا ہو جاتا ہے تو وہ اسی قسم کے ہتھیاروں پر اتراکی کرتا ہے۔پھر ہمارے لئے تو یہ کوئی نئی بات نہیں۔ہمارے بزرگوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا کی چلا آیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر کو ایک دفعہ ”زمیندار“ نے لوگوں میں جوش پیدا کر کے جُوتیاں مروائی تھیں۔کچھ دن پہلے اُنہوں نے اس قسم کے مضمون لکھے کہ لوگوں میں اشتعال پیدا ہو۔پھر ”زمیندار“ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر اپنے اخبار میں ا