خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 131 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 131

خطبات محمود ۱۳۱ سال ۱۹۳۸ء شائع کر دی اور اس پر کئی طرح عوام اور جہلاء نے تصویر کی ہتک کی۔چنانچہ انارکلی لاہور میں عین سڑک کے درمیان ایک شخص نے تصویر چسپاں کر دی تا کہ لوگوں کے پاؤں اُس پر پڑیں۔مگر کیا تم سمجھتے ہو اس کے مقابلہ میں ہمیں بھی یہی چاہئے کہ ہم ان کے باپ دادا کی تصویر لے کر اسے خراب کریں اور اگر ہم بھی ایسا ہی کریں تو اس کا سوائے اس کے اور کیا نتیجہ نکل سکتا ہے کہ بدی اور گند دنیا میں پھیلے۔پس ان باتوں کی کبھی پرواہ نہ کرو اور نہ ان باتوں سے جوش اور اشتعال میں آؤ۔یہ دشمن کی کے پرانے ہتھیار ہیں اور ہمیشہ انبیاء کی جماعتوں کے مقابلہ میں اس قسم کے ہتھیار وہ استعمال کرتا چلا آیا ہے۔میں جب خطبہ پڑھتا ہوں تو گلے کی خرابی کی وجہ سے بعض دفعہ منہ میں دوا کی گولی رکھ لیتا ہوں یا بعض دفعہ پان کی گلوری منہ میں رکھ لیتا ہوں۔چنانچہ پچھلے جمعہ بھی ایسا ہی ہوا۔اس پر مصری صاحب کے ایک چیلے نے ناظر امور عامہ کو گمنام چٹھی لکھ دی اور لکھا کہ اچھے خلیفہ اسیح ہیں ادھر خطبہ پڑھتے ہیں اور اُدھر جگالی کرتے چلے جاتے ہیں۔اب اس نے اس کا نام اگر جگالی رکھ دیا تو میرا کیا بگڑا، اُسی کی زبان خراب ہوئی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مجلس میں ایک دفعہ ایک شخص آیا۔آپ نے اسے تبلیغ کرنی شروع کی تو باتوں باتوں میں آپ نے فرمایا قرآن میں یوں آتا ہے۔پنجابی لہجہ میں چونکہ ق اچھی طرح ادا نہیں ہو سکتا اور عام طور پر لوگ قرآن کہتے ہوئے قاریوں کی طرح ق کی کی آواز گلے سے نہیں نکالتے بلکہ ایسی آواز ہوتی ہے جوق اورک کے درمیان درمیان ہوتی ہے۔آپ نے بھی قرآن کا لفظ اُس وقت معمولی طور پر ادا کر دیا۔اس پر وہ شخص کہنے لگا بڑے نبی بنے پھرتے ہیں ، قرآن کا لفظ تو کہنا آتا نہیں اس کی تفسیر آپ نے کیا کرنی ہے۔جونہی اس نے یہ فقرہ کہا حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید جو اُس مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے اُنہوں نے اُسے تھپڑ مارنے کیلئے ہاتھ اُٹھایا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے معا ان کا ہاتھ پکڑ لیا۔دوسری طرف مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم بیٹھے تھے ، دوسرا ہاتھ انہوں نے پکڑ لیا۔اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پھر اسے تبلیغ کرنی شروع کردی۔پھر آپ نے صاحبزادہ صاحب سے فرمایا کہ ان لوگوں کے پاس یہی ہتھیار ہیں۔اگر ان ہتھیاروں سے بھی یہ کام کی