خطبات محمود (جلد 19) — Page 126
خطبات محمود ۱۲۶ سال ۱۹۳۸ لا زماً اس میں مبتلا ہو گا۔تو بدیوں میں لوگوں کی نقل نہیں کرنی چاہئے بلکہ نیکیوں میں لوگوں کی نقل کرنی چاہئے اور ضمنی طور پر میں نے یہ بھی بتایا ہے کہ نیکیوں کی تشہیر ضروری ہوتی ہے اور بدیوں کا چُھپانا ضروری ہوتا ہے۔دیکھو باوجود اس بات کے کہ ریاء سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے پھر بھی اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ آقا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدّ شن یعنی ریاء تو منع ہے لیکن اگر برسبیل تذکرہ بغیر اس کے کہ فخر ہو یا خیلاء اور تکبر ہوا اگر کبھی تم اپنی نیکیوں کا ذکر کر دیا کرو تو یہ اور لوگوں کیلئے ہدایت کا موجب ہو سکتا ہے اور ایسا کرنا پسندیدہ امر ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی آتا ہے کہ بعض دفعہ جب ضروریات دینی کیلئے آپ صحابہ سے چندہ کا مطالبہ کرتے تو لوگوں کو تحریص دلانے کیلئے فرماتے کہ فلاں نے اتنا چندہ دیا ہے۔اب کون ہے جو اُس سے سبقت لے جائے۔اس پر صحابہ نیکی میں مقابلہ کرتے اور ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرتے لیکن ایسا کبھی کبھار کرنا چاہیئے جب ریاء اور نمائش نہ ہو یا تماشہ کی صورت نہ بن جائے۔جیسے انجمنوں میں کیا جاتا ہے کہ ایک پنسل رکھ کر کہا جاتا ہے کہ یہ فلاں یتیم کی پنسل ہے کتنے روپے کی لو گے؟ یہ تماشہ ہے اور اس قسم کا فعل کوئی پسندیدہ فعل نہیں سمجھا جا سکتا۔لیکن اگر لوگوں کو نیکی کی تحریص و ترغیب دلانے کیلئے بعض دفعہ اپنی نیکی کا ذکر کر دیا جائے تو نہ صرف یہ کہ یہ جائز ہے بلکہ بسا اوقات مفید ثابت ہوتا ہے۔پس ہماری جماعت کو نیکیوں میں بڑھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔دشمن اگر گندے حملے کرتا تج ہے تو کرے۔تمہیں اس کے مقابلہ میں گندے حملے کرنے کی کیا ضرورت ہے اور اگر تم بھی ویسا ہی گندہ حملہ کر دو تو یہ ویسی ہی مثال ہوگی جیسے کہتے ہیں کہ کسی بیوقوف کا کٹورہ کوئی نمبر دار مانگ کر لے گیا پھر شاید وہ بھول گیا یا اُس کا ارادہ ہی واپس کرنے کا نہ رہا۔حتی کہ کئی دن گزر گئے۔ایک دن وہ بیوقوف اُس کے گھر چلا گیا اور دیکھا کہ وہ اس کے کٹورے میں ساگ کھا رہا ہے۔وہ کہنے لگا نمبر دار! یہ کیسی بُری بات ہے کہ تم مجھ سے کٹورہ مانگ کر لائے اور چار پانچ مہینے ہو گئے مگر تم نے اب تک واپس نہیں کیا۔پھر وہ اپنے آپ کو گالی دے کر کہنے لگا تم تو ساگ کھا رہے ہو میں بھی اگر تمہارے کٹورے میں نجاست ڈال کر نہ کھاؤں تو مجھے ایسا ایسا سمجھنا۔