خطبات محمود (جلد 19) — Page 116
خطبات محمود 117 ۹ سال ۱۹۳۸ رحم میں وسعت اختیار کرو فرموده ۴ / مارچ ۱۹۳۸ء) تشہد، تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: - اللہ تعالیٰ کی جماعتیں یعنی حزب اللہ اور خدا کا گروہ جب کبھی دنیا میں قائم ہوتا ہے تو اس کو تمام دنیا سے ایک روحانی جنگ کرنی پڑتی ہے۔لیکن روحانی جنگ سب سے پہلے انسان کو اپنے نفس سے کرنی ضروری ہوتی ہے کیونکہ ایسا شخص جس کا گھر دشمن کے قبضہ میں ہو وہ باہر جا کر نہیں لڑسکتا۔جس کا کوئی ملک ہی نہ ہو اس نے جنگ کیا کرنی ہے۔اسی طرح جس شخص کے دل پر شیطانی قبضہ ہواُس نے شیطانی مظاہر کا دنیا میں مقابلہ کیا کرنا ہے۔آخر فوجوں کے رکھنے کیلئے یا ذخیروں کے رکھنے کیلئے یا گولہ و بار و د ر کھنے کیلئے یا اور سامانِ جنگ رکھنے کیلئے کوئی مُلک چاہیئے بے ملک تو کوئی فوج نہیں ہوتی۔لازماً وہ فوج کہیں سے کھانا مہیا کرے گی ، کہیں سے پانی مہیا کرے گی، کہیں سے سامان جنگ مہیا کرے گی ، کہیں قلعے بنائے گی ،کہیں سپاہیوں کیلئے بیرے اور جگہیں بنائے گی ، کہیں خندقیں کھو دے گی اور کہیں گھوڑے کھڑے کرے گی اور اگر باقی ضرورتوں کو مد نظر نہ رکھا جائے تو بھی کم سے کم سپاہیوں کے ڈیروں کیلئے ہی ایک وسیع علاقہ کی ضرورت ہو گی مگر جس کا ملک ہی نہیں وہ یہ انتظام کس طرح کر سکتا ہے۔اس اصل کے ماتحت روحانی فوج کیلئے بھی ملک کی ضرورت ہو ا کرتی ہے مگر روحانی فوج کا ملک انسان کا دل ہوتا ہے اور جس شخص کا دل اپنے قبضہ میں نہ ہو وہ روحانی معارف کی فوج