خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 114 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 114

خطبات محمود ۱۱۴ سال ۱۹۳۸ء بدلنے والی نہیں وہ اللہ تعالیٰ کی محبت ہے۔اس کے سوا نماز ، روزہ ، حج ، صدقہ خیرات، دیانت، امانت اور سچ سب کے استعمال کے مواقع میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔غیبت سچ ہی کا نام ہے مگر چونکہ یہ خدا تعالیٰ کی محبت کیلئے نہیں ہوتی اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دید تحل هُمَزَةٍ تم ایک شخص کو بعینہ وہی گالی جا کر سناتے ہو جو دوسرے نے تمہارے سامنے اسے دی تھی اور اس میں کوئی غلطی نہیں کرتے۔تم کہتے ہو فلاں شخص نے کہا تھا کہ زید بڑا خبیث ہے۔یہ چار الفاظ ہیں جن کے بیان کرنے میں کوئی بچہ بھی غلطی نہیں کر سکتا اور اس کا ایک ایک حرف یاد رکھ سکتا ہے۔مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس قسم کا سچ بولنے والے پر اس کی لعنت نازل ہوتی ہے۔یہ کیوں؟ اس لئے کہ اس موقع پر خدا تعالیٰ کا حکم تھا کہ کچھ بھی نہ بولو۔اس نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ جھوٹ بولو بلکہ یہ کہ چُپ رہو۔چُپ رہنا اور بات ہے اور جھوٹ بولنا اور۔تو ہر سچائی خدا تعالیٰ کی کے رحم کو جذب کرنے کا موجب نہیں ہوا کرتی بلکہ کئی سچائیاں جو فتنہ وفساد پیدا کرنے والی ہوں ان کا بیان کرنا اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب اور اس کی لعنت کا مورد بنا دیتا ہے۔پس ضروری ہے کہ ہم اپنے کاموں کے متعلق غور کرتے رہیں اور ان میں مناسب تبدیلیوں کا خیال رکھیں۔اس لئے احباب دعا کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری رہنمائی کرے تا ہم صحیح رستہ پر پہنچنے کی بجائے کسی اور غلطی میں مبتلا نہ ہو جائیں۔اللہ تعالیٰ کی نصرت دعاؤں سے میں بھی بڑھ جاتی ہے۔بے شک اسے اپنا سلسلہ بہت پیارا ہے اور جن کو وہ سلسلہ کے کام کیلئے کھڑا کرتا ہے ، ان کی مدد بھی کرتا ہے لیکن جب وہ اور اس کے ساتھی دعاؤں میں لگ جائیں تو وہ کی اللہ تعالیٰ کو اور بھی زیادہ محبوب ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کو یہ بات بھی بہت پیاری ہے کہ میرے بندے مجھ سے مانگیں۔آپ لوگوں نے دیکھا ہوگا کہ اگر بچہ ماں سے کوئی چیز مانگے نہیں تو وہ اپنے دل میں گردھتی ہے کہ میرا بچہ مجھ سے کبھی کوئی خواہش نہیں کرتا۔ساٹھ ستر فی صدی مائیں ایسی ہوتی ہیں کہ جب ان کا بچہ پہلے پہل ان سے کوئی مٹھائی یا پیسہ مانگتا ہے تو وہ اس قدرخوش ہوتی ہیں کہ گویا ساری دنیا کی بادشاہت انہیں حاصل ہوگئی۔پس اللہ تعالیٰ اس بات سے بھی خوش ہوتا ہے کہ میرے بندے مجھ سے مانگیں اور جب اُس سے مانگا جائے تو اُس کا فضل بڑھ جاتا ہے اس لئے ہمیں خاص طور پر دعائیں کرنی چاہئیں