خطبات محمود (جلد 19) — Page 11
خطبات محمود سال ۱۹۳۸ ء فلاسفروں کی نظر میں اور گند ذہن اور بلید لوگوں کی نظر میں وہی سب سے زیادہ ذلیل اور حقیر ہوتے ہیں اور صرف خدا ان کا دوست ہوتا ہے۔پس ایسی حالت میں جبکہ وہ اپنا صرف ایک ہی دوست رکھتے ہوں اگر اُس سے بھی ان کی نگاہیں ہٹ جائیں اور اُس کی بجائے انسانوں پر وہ بھروسہ کرنے لگیں تو اس سے زیادہ ان کی بدقسمتی اور کیا ہوسکتی ہے۔پس آؤ کہ ہم خدا تعالیٰ پر تو کل کریں اور آؤ کہ ہم اپنے خدا کو اپنا مقصود قرار دیں تا جس طرح ہماری زبانوں پر أَشْهَدُ أَنْ لا إلهَ إِلَّا الله ہے اسی طرح ہمارے دلوں اور دماغوں پر بھی یہی نقش ہو کہ اَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ - اس کے بعد میں قادیان کی جماعت کو اور باہر کی جماعتوں کو بھی اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اب تحریک جدید کے وعدوں کی میعاد میں بہت تھوڑا وقت رہ گیا ہے۔نومبر کے آخر میں میں نے یہ تحریک کی تھی اور اب جنوری ہے۔گویا اس تحریک پر ڈیڑھ مہینہ کے قریب گزر چکا ہے اور ہماری طرف سے جو میعاد مقرر ہے اس میں بہت تھوڑے دن رہ گئے ہیں۔ہندوستان کے لوگوں کیلئے سوائے بنگال اور مدراس کے کہ وہاں غیر زبانیں بولی جاتی ہیں اور ان علاقوں میں اتنی جلد اس تحریک سے ہر شخص آگاہ نہیں ہوسکتا ۳۱ / جنوری آخری تاریخ ہے لیکن چونکہ ایسا ہوسکتا ہے کہ بعض دوست ۳۱ / جنوری کی شام کو اپنا وعدہ لکھوائیں اور وہ خط یکم فروری کو ڈالا جائے اس لئے جس خط پر یکم فروری کی مہبر ہوگی اُسے بھی لے لیا جائے گا لیکن اس کے بعد کوئی وعدہ قبول نہیں کیا جائے گا اور چونکہ اس میعاد میں اب بہت قلیل دن رہ گئے ہیں اس لئے دوستوں کو بہت جلد وعدے لکھوا دینے چاہئیں۔آج جنوری کی سات تاریخ ہے اور اس مہینہ کے ۲۴ دن رہتے ہیں اور ۳۸ ۳۹ دن پہلے گزر چکے ہیں۔گویا ساٹھ فیصدی سے زیادہ وقت گزر چکا ہے اور صرف چالیس فیصدی وقت باقی ہے۔مجھے افسوس ہے کہ اب تک اکثر جماعتوں نے اپنے وعدے نہیں بھجوائے اور ان جماعتوں میں بعض بڑی بڑی جماعتیں بھی شامل ہیں۔چند دن ہوئے دفتر کی طرف سے جو رپورٹ مجھے ملی تھی اس سے ظاہر ہوتا تھا کہ صرف تین فیصدی جماعتوں کے وعدے آئے ہیں اور ستر فیصدی جماعتیں ابھی تک خاموش ہیں۔قادیان میں سے اکثر وعدے اگر چہ آچکے ہیں مگر پھر بھی مکمل وعدے نہیں آئے۔ابھی بعض محلے