خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 946 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 946

خطبات محمود ۹۴۶ سال ۱۹۳۸ء کی طرف سے ہندوؤں اور سکھوں پر ظلم ہو رہا ہے لیکن اگر انہی کے ہم مذہب آدمی یہاں آئیں اور وہ ہمارے سلوک کو دیکھیں تو وہ خود بخو د حقیقت حال سے آگاہ ہو جائیں گے اور سمجھ لیں گے کہ وہ لوگ جو خود اپنے آپ کو مظلوم ظاہر کر رہے ہیں، ظالم ہیں اور جن کو ظالم کہا جاتا ہے وہ مظلوم ہیں۔تو صرف یہی نہیں دیکھا جاتا کہ کوئی احمدی ہوتا ہے یا نہیں بلکہ یہ امر بھی مدنظر رکھنا چاہئے کہ ان تعلقات کے نتیجہ میں ملک کے امن میں ترقی ہوتی ہے اور وہ تنافر دور ہو جاتا ہے جو ہندوؤں سکھوں اور مسلمانوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے متعلق پایا جاتا ہے۔پچھلی دفعہ ایک ہندو اخبار کے ایڈیٹر ہمارے جلسہ پر آئے اور انہوں نے واپس جا کر اپنے اخبار میں لکھا کہ ہمیں تو یہ بتایا جاتا تھا کہ احمدی بڑے وحشی ہوتے ہیں مگر ان کا جلسہ دیکھنے کے بعد میری یہ رائے ہے کہ یہ درست نہیں۔احمدی بڑے اچھے ہوتے ہیں اور ان کی خواہش ہے دنیا میں نیکی ترقی کرے اور ملک میں امن قائم ہو۔اب چاہے وہ کتنے ہی متعصب ہوں کسی مجلس میں جب یہ کہا جائے گا کہ احمدی ظالم اور بد اخلاق ہوتے ہیں تو وہ کہیں گے بالکل غلط ہے۔میں خود ان کے جلسہ میں شامل ہوا اور میں اپنے مشاہدہ کے رو سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ بالکل جھوٹ ہے جو ان کے متعلق کہا جاتا ہے۔تو یہ بھی ہندوؤں اور سکھوں کے یہاں آنے کا ایک فائدہ ہے اور درحقیقت بہت بڑا فائدہ ہے۔پس اس بات سے گھبرانا نہیں چاہئے کہ اگر ہم انہیں ہمراہ لائے تو وہ احمدی نہیں ہونگے۔بے شک وہ احمدی نہ ہوں لیکن یہ ضرور فائدہ حاصل ہوگا کہ ہماری جماعت کے متعلق ان کی رائے بدل جائے گی اور وہ یہ اقرار کرنے پر مجبور ہونگے کہ جماعت احمدیہ کے متعلق مخالف جو کچھ کہتے ہیں وہ غلط ہے۔پھر ایک اور بات بھی ہے جس کا ہمارے احمدی دوست اگر چاہیں تو تجربہ کر سکتے ہیں اور وہ یہ کہ جب وہ غیر احمدی دوستوں کو اپنے ہمراہ لاتے کی ہیں تو ان میں سے اکثر کا کرایہ انہیں خود ادا کرنا پڑتا ہے لیکن ہندو ا کثر اپنے کرایہ پر آتے ہیں اور اپنے کرایہ پر ہی جاتے ہیں چونکہ انہیں علم کی قدر ہے اس لئے وہ ایسے موقعوں پر اپنی گرہ کی سے روپیہ خرچ کر کے نئے علوم حاصل کرنے کے لئے پہنچ جاتے ہیں مگر مسلمانوں میں چونکہ تعلیم کی کمی ہے۔اس لئے انہیں کرایہ دے دے کر ساتھ لانا پڑتا ہے۔تو ہندو اور سکھ دوستوں کو اپنے ہمراہ لانے میں بہت بڑا فائدہ ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں جلسہ سالانہ کے موقع