خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 945 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 945

خطبات محمود ۹۴۵ سال ۱۹۳۸ء بات کا متقاضی ہے کہ ہم لوگ اس کی طرف زیادہ توجہ کریں۔سب سے پہلے صرف ایک ہندو دوست ہمارے جلسہ پر آئے تھے۔جس پر ہم نے بڑی خوشی کا اظہار کیا وہ دوست اب ہیں تو احمدی لیکن ان کا نام ہندوانہ ہی ہے۔اسی طرح ایک اور ہندو دوست ہیں وہ ابھی احمدی نہیں کی ہوئے لیکن انہیں احمدیت کی سچائی کا احساس شروع ہو گیا ہے۔چنانچہ اُس نے مجھے ایسے خط لکھنے شروع کر دیئے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ اب وقت آگیا ہے کہ مجھے آپ کی بیعت کر لینی چاہئے۔ایک اور اسی قسم کے صاحب دہلی میں ہیں۔انہوں نے ذکر کیا کہ فلاں فلاں روک میرے رستہ میں حائل ہے اگر یہ دور ہو جائے تو میں آپ کی ضرور بیعت کرلوں۔ایک روک انہوں نے کی یہ بتائی کہ میری والدہ زندہ ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر میں نے احمدیت قبول کی تو انہیں صدمہ ہوگا۔پس ایک طرف میرا جی چاہتا ہے کہ وہ زندہ رہیں اور دوسری طرف میں یہ بھی دیکھ رہا تی ہوں۔کہ وہ ایک صداقت کے قبول کرنے میں روک بن رہی ہیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہندوؤں میں ایک تغیر محسوس کرتا ہوں۔بعض ہندو دوست ہمارے جلسہ پر چار چار پانچ پانچ سال آتے رہے اور آخر اللہ تعالیٰ نے انہیں صداقت قبول کرنے کی توفیق دے دی یا صداقت قبول کرنے کے لئے وہ بہت حد تک تیار ہو گئے مگر تبلیغ کے صرف یہ معنی نہیں ہوتے کہ کوئی مسلمان ہو جائے۔ہماری جماعت میں سے کئی ایسے دوست ہیں جو ہندو اور سکھ صاحبان کو اپنے کی ہمراہ لانے میں اس لئے کوتاہی کر جاتے ہیں کہ وہ خیال کرتے ہیں کہ انہوں نے کونسا مسلمان ہو جانا ہے حالانکہ ہر تبلیغ میں ایک تعلیمی پہلو بھی ہوتا ہے جسے مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔آخر اس ملک میں ہندو بھی رہتے ہیں، مسلمان بھی رہتے ہیں اور دوسری قو میں بھی رہتی ہیں اب اگر تمام قوموں کے افراد ایک دوسرے سے ملیں گے نہیں تو انہیں ایک دوسرے کے حالات کا کیونکر علم ہو گا اور ایک دوسرے کے متعلق جو غلط فہمیاں پیدا ہو چکی ہیں وہ دور کس طرح ہونگی۔قادیان کی کو ہی دیکھ لو یہاں کے ہندوؤں اور سکھوں میں سے بعض ہمارے خلاف جھوٹ بولتے رہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان پر ہماری طرف سے مظالم توڑے جاتے ہیں اس طرح وہ اپنی تمام قوم کے لوگوں میں ہمارے خلاف اشتعال پیدا کرتے ہیں۔اب قدرتی طور پر اس پرو پیگنڈے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ناواقف لوگ یہ خیال کرنے لگ جاتے ہیں کہ واقعی میں قادیان میں جماعت احمد یہ