خطبات محمود (جلد 19) — Page 938
خطبات محمود ۹۳۸ سال ۱۹۳۸ ء پس اس کے فعل کی حکمت تو میری سمجھ میں آسکتی ہے مگر یہ جو برابر چندہ دیتے چلے جاتے ہیں اور ہر سال مثلاً پانچ روپے یا دس روپے ہی چندہ دے دیتے ہیں انکا یہ طریق میری سمجھ میں نہیں آتا کیونکہ وہ محض پیسے کی زیادتی سے بھی یا ایک آنہ یا چار آنہ یا ایک روپیہ کی زیادتی سے بھی سابقون میں شامل ہو سکتے تھے ۔ اگر وہ ہر سال ایک پیسہ کی ہی زیادتی کریں تو سات سال میں سوا پانچ آنے کی زیادتی بنتی ہے۔ اب میرے لئے یہ تسلیم کرنا بالکل ناممکن ہے کہ وہ شخص جو سات سال میں ۳۵ روپے چندہ دے دیتا ہے وہ سوا پانچ آنے زائد چندہ نہیں دے سکتا تھا یقیناً سات سال میں ۳۵ روپے چندہ دینے والوں میں سے ایک شخص بھی ایسا نہیں ملے گا جو سات سال میں سوا پانچ آنے زائد نہ دے سکتا ہو مگر افسوس ہے کہ معمولی سی غفلت کی وجہ سے لوگ السَّابِقُونَ الأَوَّلُونَ کے ثواب سے محروم ہو جاتے ہیں اور اگر کوئی شخص ایک پیسے کی بجائے ایک آنہ کی زیادتی کرے تو وہ یوں کر سکتا ہے کہ اگر اس نے پہلے سال پانچ روپے دیئے ہیں تو دوسرے سال پانچ روپے ایک آنہ دیدے، تیسرے سال پانچ روپے دو آنے، چوتھے سال پانچ روپے تین آنے ، پانچویں سال پانچ روپے چار آنے ، چھٹے سال پانچ روپے پانچ آنے ، ساتویں سال پانچ روپے چھ آنے ، اس طرح سات سالوں میں ایک روپیہ پانچ آ نہ کی زیادتی ہوتی ہے اور یہ زیادتی کوئی ایسی نہیں جو نا قابلِ برداشت ہو بلکہ جو شخص سات سال میں ستر روپے چندہ دے سکتا ہے وہ آسانی سے ایک روپیہ نو آ نہ سات سال میں اور بھی ادا کر سکتا ہے۔ پس میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ جو دوست یکساں چندہ دے رہے ہوں وہ ذراسی زیادتی کر کے السَّابِقُونَ الأَوَّلُون میں شامل ہو سکتے ہیں اگر انہوں نے پچھلے سال پانچ روپے دیئے تھے تو اس سال وہ اپنے چندہ کو پانچ روپے ایک آنہ بنا سکتے ہیں یا اگر اتنی زیادتی بھی وہ نہیں کر سکتے تو پانچ روپے ایک پیسہ کر دیں کیونکہ سابقون کیلئے محض زیادتی کی شرط ہے مقدار کی تعین نہیں ۔ بعض لوگ الفاظ غور سے نہیں سنتے اور اس وجہ سے دھوکا کھا جاتے ہیں جیسے امانت فنڈ میں حصہ لینے والے اب شور مچا رہے ہیں کہ ہمیں ہمارا روپیہ واپس کیا جائے حالانکہ اگر وہ غور سے میرے خطبات کو پڑھتے تو متواتر کئی خطبات میں میں نے بتایا تھا کہ یہ میرا اختیار ہوگا کہ