خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 935 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 935

خطبات محمود ۹۳۵ سال ۱۹۳۸ ء اصل باشندوں کو مستثنی کرتے ہوئے کہ وہاں کی زبان مختلف ہے اور ہم ہمیشہ وہاں کے رہنے والوں کو زیادہ عرصہ دیا کرتے ہیں ، دس فروری ہے ۔ پس دوستوں کی طرف سے وہی وعدے قبول کئے جائیں گے جو یا تو اس عرصہ میں دفتر پہنچ جائیں گے یا جن پر ڈاکخانہ کی مہراا رفروری کی ہوگی کیونکہ دس فروری جو آخری تاریخ ہے اسلئے شام کو اگر کوئی وعدہ لکھوانا چاہے تو اسی روز اس کا خط ڈاکخانہ سے روانہ نہیں ہو سکتا اس کا خط بہر حال گیارہ فروری کو روانہ ہو سکے گا ۔ پس گیارہ فروری کی مہر جس خط پر ہو گی اسکے وعدہ کو بھی قبول کر لیا جائے گا ہاں ہندوستان کے صوبوں میں سے بنگال اور مدراس کی جماعتوں کے وعدے اور اسکے علاوہ ان تمام جماعتوں کے وعدے جو ایشیا اور افریقہ میں ہیں ۔ 30 اپریل تک قبول کیے ، جاسکتے ہیں جیسے ایسٹ افریقہ ہے، عراق ہے، یوگنڈا ہے ، ٹانگا نیکا ہے ، اسی طرح دوسری طرف سماٹرا اور جاوا وغیرہ ہیں مغربی ممالک کیلئے جو زیادہ فاصلہ پر ہیں آخری میعاد۳۰ رجون ہو گی ۔ جیسا کہ گزشتہ سالوں سے ہوتا چلا آیا ہے یہ رعایت اس لئے ہے کہ وہاں خطبوں کے پہنچنے میں کئی ہفتے لگ جاتے ہیں پھر ان کی زبان اور ہے اور ان تک بات پہنچانے میں وہاں کے کارکنوں کو تحریک کا ترجمہ کرنا پڑتا ہے۔ اس سلسلہ میں میں بعض اور باتیں بھی واضح کر دینا چاہتا ہوں جو ملاقات کے ایام میں چندہ تحریک جدید کے متعلق میرے سامنے آئیں اور جلسہ سالانہ کے ایام میں لوگ ان کے متعلق مجھ سے پوچھتے رہے ہیں ۔ یہ سوالات میرے اس اعلان کے متعلق ہیں جو میں نے جلسہ سالانہ کے موقع پر کیا تھا کہ چندہ تحریک جدید میں آخر تک حصہ لینے والوں کی جولسٹ بنائی جائے گی وہ دو حصوں میں منقسم ہوگی ، ایک تو ان لوگوں کی فہرست ہو گی جنہوں نے اس تحریک میں قانون کے مطابق کمی کر کے باقاعدہ دس سال تک چندہ دیا ہو گا یا یکساں دیتے چلے گئے ہوں گے۔ اپنے چندہ میں کمی کرنیوالوں کی وجہ میری سمجھ میں آجاتی ہے مگر ہر سال یکساں چندہ دینے والوں کی وجہ میری سمجھ میں نہیں آتی ۔ مثلاً یہ تو سمجھ میں آ سکتا ہے کہ ایک شخص جسے پانچ روپے چندہ دینے کی توفیق نہ تھی اس نے دوسرے دور کے دوسرے سال میں ساڑھے چار کر دیئے اور اس سے اگلے سال قانون کے مطابق اس کے ذمہ چار روپے رہ گئے اور پھر اس سے اگلے سال