خطبات محمود (جلد 19) — Page 936
خطبات محمود ۹۳۶ سال ۱۹۳۸ء ساڑھے تین رہ گئے اور پھر تین تین روپے وہ تین سال متواتر دیتا رہا یا دوسرے دور کے پہلے سال اس نے دس روپے دیئے تو اگلے سال نو روپے رہ گے، پھر نو کے آٹھ رہ گئے ، پھر آٹھ کے سات رہ گئے ، سات کے چھو رہ گئے ، چھ چھ روپے وہ با قاعدہ تین سال تک دیتا رہا لیکن میں یہ نہیں سمجھ سکتا کہ وہ شخص جو السَّابِقُونَ الاَوَّلون میں نہایت معمولی زیادتی کے ساتھ شامل ہوسکتا ہے وہ چندہ ہر سال برابر کیوں دیتا رہا مثلاً وہ شخص جس نے پہلے سال پانچ روپے چندہ میں دیئے اور پھر ہر سال وہ پانچ روپے ہی دیتا رہا اس نے یقیناً اس بات کو نہیں سمجھا کہ وہ بہت ہی معمولی قربانی کے ساتھ اَلسَّابِقُونَ الاَوَّلُون میں شامل ہو سکتا تھا مگر اس نے اس طرف توجہ نہیں کی مثلاً وہ شخص جس نے پہلے سال پانچ روپے دیئے جبکہ وہ دوسرے سال پانچ روپے ایک آنہ دے کر، تیسرے سال پانچ روپے دو آنہ دے کر ، چوتھے سال پانچ روپے تین آنے دے کر، پانچویں سال پانچ روپے چار آنے دے کر، چھٹے سال پانچ روپے پانچ آنے دے کر، ساتویں سال پانچ روپے چھ آنے دے کر ، السابقون اور ہر سال قدم آگے بڑھانیوالوں میں شامل ہوسکتا تھا تو میں نہیں سمجھ سکتا کہ کیوں وہ چند آنوں کی زیادتی میں بخل سے کام لے کرسابقون کے درجہ میں شامل نہ ہوا اور ہر سال پانچ روپے ہی دیتا چلا گیا۔جب ہر سال کے چندہ میں محض ایک آنہ کی زیادتی اسے اَلسَّابِقُونَ الاَوَّلُون میں شامل کر سکتی ہے تو یقیناً اگر کوئی کی شخص یہ زیادتی نہیں کریگا تو اس کے متعلق یہ سمجھا جائیگا کہ یا تو اس نے ناواقفیت اور عدم علم کی وجہ سے ایسا نہیں کیا اور یا پھر اسکے دل میں سابق ہونے کی ایسی قدر نہیں ہے۔تو قاعدہ کے مطابق جن دوستوں نے اپنے چندہ میں کمی کی ہے ان کی اس کمی کی حکمت تو میری سمجھ میں آ سکتی ہے اور میں مان سکتا ہوں کہ مالی مشکلات کی وجہ سے وہ کمی کرنے پر مجبور ہوئے ہیں مگر وہ لوگ کی جو ہر سال برابر چندہ دیتے رہے ہیں ان کے اس یکساں چندہ دینے کی حکمت میری سمجھ میں نہیں آتی کیونکہ وہ بلا وجہ ایک عظیم الشان ثواب کے حصول سے محروم رہتے ہیں۔بیشک ایک شخص کہہ سکتا ہے کہ پچھلے سال میں نے پانچ روپے چندہ میں دیئے تھے اس سال چھ روپے چندہ دینے کی مجھے تو فیق نہیں مگر ہم کب کہتے ہیں کہ زیادتی ضرور ایک روپیہ ہی کی ہونی چاہئے۔ہم نے زیادتی کے متعلق کوئی تعیین نہیں کی اور جب زیادتی کے متعلق ہماری طرف سے کوئی تعیین نہیں تو یہ زیادتی