خطبات محمود (جلد 19) — Page 928
خطبات محمود ۹۲۸ سال ۱۹۳۸ ء اگر ایک شاعر نے اپنے شعروں سے ایک تاجر کی کالی اوڑھنیاں بکوا دی تھیں تو اس الہی وعدہ والی مسجد کے لئے روپیہ فراہم کرنا کیا مشکل کام ہے۔ کہتے ہیں کسی شخص کو مالی تنگی تھی اور روپیہ ملنے میں دقت پیش آرہی تھی ایک شاعر نے جو اس کا دوست تھا اس سے کہا کہ تم شہر کی سب کالی اوڑھنیاں خرید لو ۔ جب وہ خرید چکا تو اس شاعر نے کچھ شعر کہہ دیئے جن میں کالی اوڑھنی کی تعریف کر دی شاعر مشہور تھا جب اس کی طرف سے کالی اوڑھنیوں کی تعریف ہوئی تو عورتوں کی طرف سے کالی اوڑھنیوں کے لئے مطالبات ہونے لگے اور اس طرح ان کی قیمت بڑھ گئی اور اس نے ہزاروں روپیہ کما لیا ۔ پس جب ایک شاعر نے کالی اوڑھنیوں کی تعریف کر کے اپنے دوست کے لئے روپیہ جمع کروا دیا تو میں کس طرح مان لوں کہ ہمارے کارکنوں نے اس مسجد کی اہمیت کو دوستوں پر ظاہر کیا ہوتا تو روپیہ جمع نہ ہوتا ۔ بڑے آدمی تو الگ رہے میں سمجھتا ہوں اگر صحیح طور پر جماعت کے سامنے اس بات کو پیش کیا جاتا تو پندرہ سال تک کے بچے بھی اسے پورا کر سکتے تھے اور اس وجہ سے میرا آج یہاں خطبہ پڑھنا مفید ہو گیا ہے کہ یہ حالات میرے سامنے بھی اور جماعت کے سامنے بھی آ گئے ہیں ۔ اس کے بعد میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ آپ لوگ جلسہ سالانہ میں شمولیت کے لئے تشریف لائے ہیں جو انشاء اللہ دو روز کے بعد شروع ہوگا ۔ یہ جلسہ جیسا کہ بار بار جماعت کے امنے پیش کیا جا چکا ہے حضرت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ کے الہام اور حکم کے ما تحت قائم کیا ہے اور اس لحاظ سے دنیا کے تمام جلسوں میں منفرد حیثیت رکھتا ہے ۔ یہ جلسہ خالص مذہبی اغراض کے ماتحت ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے کلمہ اور شان کو بلند کرنے کے لئے ہر قسم کے مسائل پر اس میں تقریریں ہوتی ہیں اور اس میں شمولیت کے لئے آنے والے ہر قسم کی دُنیوی اغراض کو پیچھے ڈال کر یہاں آتے ہیں ۔ یہاں کوئی تجارت نہیں ہوتی سوائے اس کے کہ کسی نے پیسہ پیسہ کی کوئی کتاب بیچ لی اور چند پیسے کما لئے ۔ یہ کوئی تجارت نہیں اتنے پیسے تو آدمی مانگ کر بھی لے لیتا ہے ۔ اس کے سوا یہاں دنیوی لحاظ سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور جولوگ اپنے گھروں میں آرام و آسائش کے ساتھ رہتے ہیں وہ بھی یہاں آکر ایسی تکلیف اٹھاتے ہیں جو گھروں میں عام آدمی بھی برداشت نہیں کر سکتے۔ یہاں بیشتر حصہ کو کھوری یا کسیر ملتی ہے جس پر انہیں سونا پڑتا ہے۔