خطبات محمود (جلد 19) — Page 927
خطبات محمود ۹۲۷ سال ۱۹۳۸ء کوئی دیوکسی پر خوش ہو گیا اور اس نے کہا کہ میں آج ٹھٹھا ہوا ہوں مانگ جو مانگتا ہے مجھے یہی لفظ یا د ہے گو ممکن ہے بوجہ اس کے کہ میں ٹھیٹھ پنجابی نہیں جانتا اس کے تلفظ میں کوئی غلطی ہو مگر جہاں تک مجھے یاد ہے یہی لفظ تھا ، قربانی کا یہ موقع بھی ایسا ہی ہے آج اللہ تعالیٰ کے متعلق بھی کہا ج جا سکتا ہے کہ وہ انعام دینے پر تلا ہوا ہے۔جو مانگنا چاہے مانگ لے اور ایسی حالت میں کوئی کی بے وقوف یا نا واقف ہی ہو گا جو مانگنے میں کوتاہی کرے۔یہ تو ایسا موقع ہے کہ پیسہ پیسہ دے کر بھی لوگ بڑے ثواب میں شامل ہو سکتے ہیں بسا اوقات لوگ اس لئے محروم رہ جاتے ہیں کہ وہ کی سمجھتے ہیں کہ سینکڑوں ، ہزاروں روپے ہوں تبھی شمولیت ممکن ہے حالانکہ ایسے چندوں کے لئے کوئی حد بندی نہیں ہوتی۔بے شک بعض تحریکوں میں حد بندی ہوتی ہے۔جیسے تحریک جدید میں بعض مصلحتوں کے ماتحت میں نے پانچ یا دس روپیہ کی حد بندی کی ہے مگر اس کے لئے کوئی حد بندی نہیں اور اس میں غریب سے غریب آدمی بھی حصہ لے سکتا ہے حتی کہ ایک اپاہج اور ٹو لالنگڑا آدمی بھی اپنی بچی ہوئی روٹی کا ٹکڑا بھی دے سکتا ہے کہ اسے بیچ کر خرچ کر لیا جائے۔اور ہم اس کے لینے سے انکار نہیں کر سکتے یہ ایک غلطی ہے کہ لوگ خیال کر لیتے ہیں کہ سینکڑوں، ہزاروں روپے دیکر ہی شمولیت کی جاسکتی ہے اگر پیسہ پیسہ بھی دیا جائے تو ثواب میں شمولیت ہو سکتی ہے۔پس بجائے اس کے کہ اس مسجد کی تعمیر اس لئے رُکی رہے کہ روپیہ نہیں یہ ایسا اہم کام ہے کہ چاہئے اس کے لئے فنڈ ہمیشہ جمع رہے تا جب بھی موقع ملے اس کو اور زیادہ وسیع کیا جاسکے۔یہ مسجد تو انشاء اللہ دنیا میں تیسرے نمبر پر شمار ہوگی اول خانہ کعبہ دوم مسجد نبوی اور سوم یہ مسجد ہوگی اور اس لحاظ سے اس کی وسعت کا بھی خیال رکھنا چاہئے تا جب اس میں ہزاروں لاکھوں لوگ کی نماز پڑھنے کے لئے آئیں تو بھی یہ مسجد ان کے لئے کافی ہو اور میں سمجھتا ہوں کہ ہر احمدی اس ثواب میں اپنا حق لینے کی کوشش کرے گا اور جو چاہے وہ پیسہ دو پیسہ دے کر بھی مدد کر سکتا ہے۔قادیان کی آبادی اس وقت دس ہزار کے قریب ہے جس میں سے قریباً آٹھ ہزار احمدی ہیں اور اگر ایک آنہ فی کس بھی سمجھا جائے تو پانسور و پیہ تو فوراً یہاں سے ہی مل سکتا ہے اس لئے میرے نزدیک کوئی وجہ نہیں کہ اس عمارت کو روکا جائے۔کارکنوں نے معلوم ہوتا ہے اس بات کو اچھی طرح جماعت کے سامنے پیش نہیں کیا اگر وہ کرتے تو کوئی وجہ نہ تھی کہ روپیہ کافی نہ آ جاتا۔