خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 903 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 903

خطبات محمود ۹۰۳ سال ۱۹۳۸ ء خدا اور اس کے رسول کے لئے ہجرت کی ہوتی تو جب بھی ان سے کہا جاتا کہ جاؤ اور باہر نکل کر اسلام پھیلاؤ تو وہ خوشی سے اُٹھ کھڑے ہوتے اور کہتے کہ الحمد للہ ، ہماری ہجرت کا مقصد پورا ہو گیا ۔ ہم نے خدا اور اس کے رسول کے لئے ہجرت کی تھی اور خدا نے ہم سے اپنا کام لے لیا مگر ہوتا یہ ہے کہ جب ان سے کہا جاتا ہے باہر جاؤ تو وہ یہ کہنے لگ جاتے ہیں ہم جائیں کہاں اور اگر جائیں تو کھائیں کیا ؟ پس ان کی ہجرت إِلَى اللهِ وَإِلَى الرَّسُولِ نہیں بلکہ ان کی ہجرت إِلَى الطَّعَامِ يَا إِلَى اللباس ہے ۔ یعنی یا تو وہ کھانے پینے کے لئے قادیان آئے ہیں یا تجارت کرنے کے لئے قادیان آئے ہیں یا دشمن کے شر سے بچنے کے لئے قادیان آئے ہیں ۔ دین کا کوئی حصہ اور ہجرت کا کوئی حقیقی رنگ ان میں نہیں پایا جاتا۔ حالانکہ ہجرت ہمیشہ دین کی خدمت کے لئے ہوتی ہے، اپنے ذاتی مفاد کے حصول کے لئے نہیں ہوتی ۔ چنانچہ تاریخ سے ثابت ہے کہ مکہ سے جو مسلمان ہجرت کرتے وہ اسی لئے ہجرت کرتے تھے کہ با ہر نکل کر اسلام کو چار دانگ عالم میں پھیلائیں گے اسی وجہ سے جب وہ مکہ سے ہجرت کرتے تو کفاران کا پیچھا کرتے ، انہیں پکڑ پکڑ کر واپس لاتے اور اگر کوئی نہ پکڑا جاتا تو اس کے لئے انعام مقرر کرتے کیونکہ وہ سمجھتے تھے اگر یہ ہجرت کر کے چلے گئے تو اسلام پہلے سے بھی زیادہ زور کے ساتھ پھیلنا شروع ہو جائے گا اور اس کی ترقی جو پہلے صرف مکہ تک محدود ہے اِرد گرد کے علاقوں کو بھی اپنے اندر شامل کرے گی ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ صحابہ جب مکہ سے ہجرت کر کے گئے تو مدینہ میں وہ روٹیاں کھانے کے لئے نہیں بیٹھ گئے بلکہ انہوں نے اسلام کی فتح کے لئے لڑائیوں میں حصہ لیا اور اپنی جانیں خُدا اور اس کے رسول کے لئے قربان کر دیں ۔ پس وہ قربانی کرنے اور اپنی جانیں خدا تعالیٰ کی راہ میں دینے کے لئے ہجرت کرتے تھے۔ اس لئے ہجرت نہیں کرتے تھے کہ مدینہ جا کر انہیں آرام سے روٹی مل جائے گی اور دشمن کے حملوں سے ان کی جان بچ جائے گی ۔ یہی وجہ ہے کہ جو نہی اسلامی حکومت قائم ہوئی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعلان فرما دیا کہ اب کوئی ہجرت نہیں ہے کیونکہ ہجرت تکلیف اُٹھانے کے لئے تھی اور چونکہ اسلامی حکومت کے قیام کے بعد قربانیوں کا کوئی موقع نہیں تھا اس لئے انیوں کا کوئی موقع ہی تھا اس لئے