خطبات محمود (جلد 19) — Page 902
خطبات محمود ۹۰۲ سال ۱۹۳۸ء مَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهَجْرَتُهُ إِلى اللهِ وَرَسُولِهِ لے کہ جو شخص اس لئے ہجرت کرتا ہے کہ میں خدا اور اس کے رسول کا قرب حاصل کروں تو اسے واقع میں خدا اور اس کے رسول کا قرب حاصل ہو جاتا ہے مگر فرمایا مَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوْ إِلَى امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ ہے جو شخص اس لئے ہجرت کرتا ہے کہ مجھے کوئی دنیاوی فائدہ پہنچ جائے یا کسی عورت سے شادی کرنے کی غرض سے وہ ہجرت کرتا ہے تو فرمایا اس کی کچ ہجرت تو اسی کے لئے ہو گی۔وہ عورت کا مہاجر کہلا سکتا ہے، وہ دُنیا کا مہاجر کہلا سکتا ہے، وہ تجارت کا مہاجر کہلا سکتا ہے، وہ امن کا مہاجر کہلا سکتا ہے مگر وہ خدا اور اس کے رسول کا مہاجر نہیں کہلا سکتا۔یہ ہجرت کا فرق رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے زمانہ میں ہی بیان فرما دیا کی تھا ، آج کا ایجاد کردہ نہیں۔پس ہمیں تو اس ہجرت کی ضرورت ہے جو خدا اور اس کے رسول کے لئے ہو اس ہجرت کی ضرورت نہیں جو دنیوی اغراض کے ماتحت ہو مگر میں دیکھتا ہوں کہ اب ایسے لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی ہے جو محض اس لئے ہجرت کا نام لے کر قادیان آگئے ہیں کہ باہر وہ دشمنوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے۔پس وہ ڈر کر اور مصیبتوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے قادیان آئے ہیں۔اس لئے قادیان نہیں آئے کہ انہیں خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہو اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی پوری ہو۔چنانچہ جب بھی ان سے پوچھا جائے کہ تم کیوں قادیان آئے ہو تو وہ یہی جواب دیں گے کہ باہر ہمارے لئے مشکلات بڑی تھیں۔گویا وہ کی خدا کے لئے نہیں آئے بلکہ اپنے آپ کو امن پہنچانے کے لئے یہاں آئے ہیں۔پس وہ خدا کے مہاجر نہیں بلکہ دنیا کے مہاجر ہیں ، وہ امن کے مہاجر ہیں وہ تجارت کے مہاجر ہیں مگر انہیں خدا اور اس کے رسول کا مہاجر نہیں کہا جا سکتا۔یہی وجہ ہے کہ جب ان سے کہا جاتا ہے قادیان میں کیوں بیٹھے ہو، باہر جاؤ اور تبلیغ کرو تو وہ کہتے ہیں ہم کہاں جائیں ، باہر دشمن تو ہمیں آرام نہیں لینے دیتا۔جس کا صاف طور پر یہی مطلب ہے کہ وہ آرام طلبی کے لئے قادیان آئے ہیں۔حالانکہ ہجرت کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص خدا تعالیٰ کی خاطر تکلیف اُٹھانے کے لئے آئے نہ یہ کہ اپنے آپ کو آرام پہنچانے یا دنیوی اغراض و مقاصد میں ترقی حاصل کرنے کے لئے آ جائے اور آرام سے مہاجر بن جائے۔اگر ان کے دل میں ہجرت کی عظمت ہوتی اور اگر انہوں نے۔