خطبات محمود (جلد 19) — Page 901
خطبات محمود ۹۰۱ سال ۱۹۳۸ ء خواہش ایک قدرتی خواہش ہے اور ہم اس خواہش میں کہ قادیان کی احمدی آبادی جلد سے جلد بڑھے کسی سے پیچھے نہیں لیکن دوسری طرف ہماری یہ خواہش بھی رہتی ہے کہ قادیان میں ایسی آبادی نہ بڑھے جو دینی لحاظ سے کمزور ہو اور ایسا نہ ہو کہ قادیان کی ترقی کے ساتھ ہی ہم پر یہ مثل صاد صادق آ جائے کہ سرمنڈواتے ہی اولے پڑے اور تعداد کی ترقی کے ساتھ ہم میں اخلاء اخلاقی تنزل شروع ہو جائے ۔ اب جو دشمن بعض دفعہ ہماری جماعت پر اعتراض کرتا اور شور مچانے لگ جاتا ہے اس کی زیادہ تر وجہ یہی ہے کہ قادیان میں بعض ایسے لوگ ہجرت کر کے آ جاتے ہیں جو اخلاقی معیار پر پورے نہیں اُترتے ۔ پہلے زمانہ میں قادیان میں مشکلات باہر سے زیادہ تھیں اور اُس وقت وہی لوگ یہاں آ کر بستے تھے جو اعلیٰ اخلاق رکھتے تھے۔ دین کے لئے قربانیاں کرنے کا جذبہ اپنے دل میں رکھتے تھے اور محض خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول اور اس کے فضل کی تلاش کے لئے وہ قادیان آ کر ڈیرہ جما دیتے تھے ۔ مگر اب قادیان میں احمدی آبادی کی زیادتی کی وجہ سے لوگوں میں یہ احساس پیدا ہو گیا ہے کہ اگر ہم ہجرت کر کے قادیان گئے تو ہماری تجارت میں ترقی ہو جائے گی یا کوئی ملازمت ہی مل جائے گی یا امداد کے لئے کوئی وظیفہ ہی مقرر ہو جائے گا ۔ اس وجہ سے وہ کمزور اور بزدل لوگ جو اپنی جگہوں پر مخالفوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے وہ ہجرت کا نام لے کر قادیان آ جاتے ہیں ۔ پس ان سے یہ اُمید رکھنا کہ وہ سلسلہ کے نظام کی پابندی کریں گے، احکام سلسلہ کی فرمانبرداری کریں گے ، قربانی کے موقعوں پر قربانی اور ایثار کا شاندار نمونہ دکھائیں گے اور جماعتی کاموں میں بشاشت اور خوش دلی کے ساتھ حصہ لیں گے، بالکل غلط ہوتا ہے ۔ وہ حاجتمند ہوتے ہیں، وہ طالب امداد ہوتے ہیں ، وہ ایک قسم کے سائل ہوتے ہیں ۔ پس ان سائلوں یا بزدلوں اور کمزوروں کی جماعت کے بڑھنے سے ہمارے اخلاق ترقی نہیں کریں گے بلکہ تباہ ہوں گے اور جماعت کی ترقی نہیں ہو گی بلکہ تنزل ہوگا اور اس کی شان بلند نہیں ہو گی بلکہ گرے گی ۔ پس ہجرت محدود ہونی چاہئے اور ایسے ہی لوگوں کے لئے ہجرت ہونی چاہئے جو سلسلہ کے لئے قربانی کرنے والے ہوں نہ وہ جو کہ سائل کی حیثیت رکھتے ہوں یا بھگوڑوں اور بزدلوں کی جماعت ہو ۔ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی فرماتے ہیں کہ