خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 900 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 900

خطبات محمود سال ۱۹۳۸ء میں ان سے کہتا ہوں کہ وہ زیادہ حوصلہ دکھا ئیں اور بہر حال ان کی رعایت رکھیں۔کیونکہ وہ خود ہی اکثریت میں ہیں اور دوسرے اقلیت میں اور میرے نزدیک ٹاؤن کمیٹی کو بھی کوشش کرنی چاہئے کہ وہ اپنے حلقوں کو اس طرح تبدیل کرے کہ غیر احمدیوں کا بھی ایک نمائندہ ضرور آ جائے۔اس احساس میں میں خود بھی شریک ہوں مگر موجودہ حالات میں گورنمنٹ نے وارڈ ایسے رنگ میں تقسیم کر رکھے ہیں کہ احمدی باوجود اکثریت میں ہونے کے اقلیت میں بدل سکتے ہیں اور یہ کی بات قطعاً برداشت نہیں کی جاسکتی۔یہ تو ہو سکتا ہے کہ ہم ۷۵ فیصدی ہونے کے باوجود ۶۰ یا ۶۵ فیصدی نیابت قبول کر لیں لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم ۴۰ یا ۵۰ فیصدی نیابت قبول کرنے کے لئے تیار ہو جائیں۔(۲) اس کے بعد میں جماعت کے دوستوں کو ایک اور امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں اور وہ ہجرت کا مسئلہ ہے۔ہجرت کے معاملہ میں ہماری جماعت سے بہت کچھ غلطیاں ہو جاتی ہیں حالانکہ میں نے ایک دفعہ پہلے بھی اس کی طرف توجہ دلائی تھی مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ نہ بیرونی جماعتیں اس کی طرف توجہ کر رہی ہیں اور نہ قادیان کی جماعت اس کی طرف کی متوجہ ہے۔یہ مسئلہ بھی نہایت پیچیدہ ہے اور جب تک خاص غور اور فکر سے اس کی طرف توجہ نہیں کی جائے گی اس وقت تک ہم اسے کبھی بھی حل نہیں کر سکیں گے۔اس میں پیچیدگی یہ ہے کہ ایک طرف تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ یہ بتایا ہے کہ قادیان ترقی کرے گا اور آپ نے خود یہ تحریر فرمایا ہے کہ وہ شخص جو قادیان آ کر رہائش اختیار نہیں کرتا یا کم سے کم یہاں رہائش اختیار کرنے کی دل میں تمنا اور خواہش نہیں رکھتا اس کی نسبت مجھے اندیشہ ہے کہ وہ پاک کرنے والے تعلقات میں ناقص نہ رہے۔پس اس امر کو مد نظر رکھتے ہوئے ہر احمدی کے دل میں یہ خواہش ہوتی ہے اور ہونی چاہئے کہ وہ یہاں آ کر رہائش اختیار کرے اور ہماری بھی یہی خواہش ہوتی ہے کہ لوگ زیادہ سے زیادہ تعداد میں یہاں آ کر رہیں تا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی پوری ہو۔کیونکہ پیشگوئیوں کے پورا ہونے کی