خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 885 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 885

خطبات محمود ۸۸۵ سال ۱۹۳۸ء لاشیں جمع کر رہے تھے تو انہوں نے ایک لاش کو دیکھا کہ وہ پہچانی نہ جاتی تھی اس کے ٹکڑے ادھر اُدھر پھیلے ہوئے تھے اور چہرہ زخموں سے بالکل چھلنی ہو رہا تھا ایسا کہ مُردہ کی شناخت ناممکن تھی۔انہوں نے سب ٹکڑے جمع کر کے اکٹھے رکھے تو نضر جن کا ذکر اوپر ہوا ہے ان کی ہمشیرہ نے ایک انگلی سے پہچانا کہ یہ تو میرا بھائی ہے۔صحابہ کہتے ہیں کہ ہم نے گنا تو ان کے جسم کے ستر ٹکڑے الگ الگ پڑے تھے۔یہی وہ لوگ ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ فَمِنْهُمْ مِّن قَضَى نَحْبَهُ د مِنْهُم مَّن يَنتظر۔فتح دراصل ایسے ہی لوگوں سے ہوتی ہے ان سے نہیں جو محض ایک نام کے ماتحت جمع ہو جاتے ہیں تم اس وقت جو ہزاروں یہاں بیٹھے ہو یا جو لاکھوں دنیا میں پھیلے ہوئے ہو سارے کے سارے وہ نہیں ہو جو خدا تعالیٰ کی نظر میں احمدی ہیں۔یا جن کے ذریعہ سے اسلام کو فتح حاصل ہوگی۔جن کے ذریعہ سے یہ فتح حاصل ہوگی وہ وہی ہیں جن کے دل ہر وقت قربانی کے لئے تیار رہتے ہیں اور جو مشکلات اور تکالیف میں زیادہ قربانی کرتے ہیں کہ انہی لوگوں کی کوشش سے فتح آتی ہے اور انہی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی برکات نازل ہوتی ہیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک جماعت احمدیہ کو قائم رکھنے والے بھی وہی لوگ ہیں۔بسا اوقات یہ صرف کی چند آدمی ہوتے ہیں ، لاکھوں میں سے ہزاروں، ہزاروں میں سے سینکڑوں اور سینکڑوں میں سے دسیوں بظاہر لاکھوں ، ہزاروں اور سینکڑوں ہوتے ہیں مگر جن کی قربانی کی وجہ سے فتح کی حاصل ہوتی ہے وہ بہت کم ہوتے ہیں اور یہی لوگ ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ فَمِنْهُمْ مِّن قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ من يَنتَظِرُ۔جو ہر مصیبت میں قدم آگے بڑھاتے ہیں اور کسی صورت میں بھی پیچھے ہٹنے کا نام نہیں لیتے۔دنیا کے دیئے ہوئے ناموں سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ہندو، سکھ، عیسائی، یہودی، مسلمان، احمدی خواہ کوئی کچھ کہلائے فائدہ اسی نام سے حاصل ہوگا جو نام اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا جائے۔ہزاروں عبدالرحمن کہلاتے ہیں مگر دراصل عبدالشیطان ہوتے ہیں اور ہزاروں ہیں جن کا نام عبدالرحیم ہے مگر دراصل وہ عبدالرحیم ہوتے ہیں، ہزاروں کے نام عبد الحلیم ہیں مگر خدا تعالیٰ کی نظر میں وہ عبدالغضب ہوتے ہیں اور ہر ایک کو کتے کی طرح کاٹنے کو دوڑتے ہیں۔پس اصل نام وہی ہے جو اللہ تعالیٰ سے ملتا ہے۔