خطبات محمود (جلد 19) — Page 882
خطبات محمود ۸۸۲ سال ۱۹۳۸ء اپنے دوست کی آواز پہچانی تو کہا بہت اچھا آتا ہوں۔باپ بیٹا با ہرا نتظار کرنے لگے مگر وہ دس پندرہ منٹ تک باہر نہ آیا۔بیٹے نے کہا کہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا دوست بھی ویسا ہی نکلا اور جب اسے شبہ ہوا کہ کسی غرض سے آئے ہیں تو چھپ کر اندر بیٹھ رہا ہے۔باپ نے کہا کہ تھوڑی دیر اور انتظار کرو۔آخر پندرہ بیس منٹ کے بعد دروازہ کھلا اور دوست اس حالت میں باہر آیا کہ اس کے ایک ہاتھ میں تلوار تھی ، دوسرے میں ایک تھیلی اور ساتھ بیوی تھی۔اس نے پوچھا کہ آپ نے نکلنے میں بہت دیر کر دی۔تو اس نے کہا کہ یہ ساری عمر میں پہلا موقع ہے کہ آپ اس وقت آئے ہیں اور اس وجہ سے میں نے خیال کیا کہ ضرور کوئی تکلیف کا وقت آپ پر آیا ہو گا اور دنیا میں تین ہی قسم کی مشکلات ہو سکتی ہیں۔یا تو آدمی کے گھر میں بیماری وغیرہ ہو، یا اس کے لئے مالی مشکلات ہوں اور یا پھر اس کی عزت خطرہ میں ہو۔عزت کے خطرہ کے خیال سے میں نے تلوار لی ، تا اگر اس کا موقع ہو تو اس سے آپ کی امداد کروں اور بیماری وغیرہ کا خیال کر کے میں نے اپنی بیوی کو ساتھ لے لیا کہ عورتیں تیمار داری اچھی کرتی ہیں ، پھر مجھے خیال آیا کہ مالی مشکل بھی پیش آسکتی ہے اور بعض اوقات بڑے بڑے مالداروں کے دیوالے نکل جاتے ہیں جس سے ان کی حالت خطرناک ہو جاتی ہے اور وہ معمولی امداد کے بھی محتاج ہو جاتے ہیں اور گو میں کوئی مالدار آدمی نہیں پھر بھی ساری عمر تھوڑا تھوڑا کر کے بیوی بچوں کے لئے کچھ جوڑ تا رہا ہوں اسے میں نے برتن میں ڈال کر زمین میں گاڑ رکھا تھا سو میں نے کہا اسے بھی نکال لوں کہ شاید میرے دوست کو آج میرے اس روپیہ ہی کی ضرورت پیش آگئی ہو اور اسی وجہ سے میرے نکلنے میں دیر ہو گئی سواب میں حاضر ہوں اگر آپ کی عزت خطرہ میں ہے تو میری تلوار اور میری جان موجود ہے، اگر کوئی گھر میں بیمار ہے تو میری بیوی موجود ہے ، اگر روپیہ کی حاجت ہے تو یہ میری ساری عمر کا اندوختہ موجود ہے۔اس کی باتیں سن کر بیٹے نے باپ سے کہا کہ مجھے معلوم ہو گیا کہ بچے دوست کون ہوتے ہیں واقع میں سچے دوست کا ملنا بہت مشکل ہے۔اس پر باپ نے اپنے دوست کو بتایا کہ میرالڑ کا گمراہ ہورہا تھا میں نے اسے سبق دینے کے لئے آپ کو بے وقت تکلیف دی۔آپ معاف فرما ئیں اور گھر تشریف لے جائیں۔تو جو سچا دوست ہو مشکلات کے وقت میں اس کا اخلاص بڑھ جاتا ہے اور وہ دوست کی امداد کے لئے سب قسم کی کی