خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 869 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 869

خطبات محمود ۸۶۹ سال ۱۹۳۸ وہ دیکھ لی جائیں اور ان پر غور کرنے کے بعد اگر کوئی شخص تیار ہو تو وہ ہماری طرف آئے۔یونہی اپنا نام پیش کر دینا اور پھر عذرات بیان کرنے لگ جانا مومنانہ طریق نہیں بلکہ اس طرح اپنے آپ کی کو پیش کرنا گناہ کا موجب ہے کیونکہ اس میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ شخص جھوٹی شہرت چاہتا ہے۔میں بتا چکا ہوں کہ اب کی دفعہ صرف ایسے ہی لوگ لئے جائیں گے جو یا تو انگریزی کے گریجوایٹ ہوں یا عربی کے۔اگر کوئی نوجوان اپنی تعلیم کے ایسے حصہ میں ہو جس سے وہ عنقریب فارغ ہونے والا ہو تو وہ بھی اپنے آپ کو پیش کر سکتا ہے۔گو فیصلہ اسی وقت ہوگا جب ہ اپنی تعلیم سے فارغ ہو جائے گا مثلاً وہ نوجوان جنہوں نے اب کی دفعہ بی۔اے کا امتحان دینا ہے یا جو وکالت یا ڈاکٹری کی تیاری کر رہے ہیں وہ اگر چاہیں تو اپنے آپ کو وقف کر سکتے ہیں۔ان کے بقیہ زمانہ تعلیم میں ہمیں بھی علم ہو جائے گا کہ ہم انہیں لے سکتے ہیں یا نہیں اور انہیں خود بھی علم ہو جائے گا کہ وہ امتحان میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔اس زمانہ میں نوکریوں کا ملنا بہت مشکل ہو گیا ہے اور اگر کسی کو نوکری ملتی بھی ہے تو معاوضہ اتنا قلیل ملتا ہے کہ گزارہ ہونا مشکل ہو جاتا ہے۔پس اگر انسان نے تعلیم سے فارغ ہو کر گھر میں بیٹھ کر ہی روٹی کھانی ہے تو کیوں کی نہیں وہ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کے لئے وقف کر دیتا اور سمجھ لیتا کہ گھر میں بیکار بیٹھنے سے یہ کروڑ درجے بہتر ہے کہ انسان دین کی خدمت کر کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خوشنودی حاصل کرے اور آئندہ آنے والی نسلوں کی دعا کی حاصل کرتا رہے۔یہ کتنا بڑا اعزاز ہے جوا سے حاصل ہو سکتا ہے۔مگر کئی آدمی گھر میں بیٹھے مکھیاں نی مارتے رہیں گے اور ہر روز اخبارات دیکھتے رہیں گے کہ کہیں اس میں کوئی ملازمت کا اعلان تو نہیں اور جب انہیں کوئی اعلان نظر آئے گا تو فوراً درخواست بھیج دیں گے۔چند دن بعد جواب آ جائے گا کہ جگہ پر ہو گئی ہے یا ہمیں جس لیاقت کا آدمی چاہیے تھا وہ تم میں نہیں۔یا انٹرویو کے لئے آجاؤ مگر آنے جانے کا خرچ تمہارا ہو گا۔یہ پندرہ بیس روپے خرچ کر کے وہاں پہنچیں گے تو معلوم ہوگا کہ وہاں چار پانچ سو امیدوار ہیں جو ان سے لیاقت میں کہیں بڑھ چڑھ کر ہیں اور یہ ان میں ایسے ہی معلوم ہوتے ہیں جیسے اونٹوں میں بنی۔چنانچہ یہ وہاں سے ناکام و نامراد گھر واپس آئیں گے ماں باپ گالیاں دیں گے کہ بے حیا ہمیں تجھ سے امید تھی کہ تو ہماری مدد کرے گا