خطبات محمود (جلد 19) — Page 868
خطبات محمود ۸۶۸ سال ۱۹۳۸ء اور تجربہ سے بھی یہی ثابت ہوا ہے کہ جب تک مبلغ اعلیٰ پایہ کی علمی قابلیت نہ رکھتے ہوں ، اس وقت تک تبلیغ سے چنداں فائدہ نہیں ہوتا۔اس لئے ہمارے لئے ضروری ہوگا کہ ہم ان نو جوانوں کو تعلیم دلائیں۔نہ صرف دینی بلکہ دنیوی بھی تا کہ بیرونی ممالک میں جب وہ کام کرنے کے لئے نکلیں تو ان کی راہ میں کوئی روک واقع نہ ہو۔پس ہر نو جوان کو دو تین سال تک تعلیم دینے کے بعد پھر کام پر لگایا جائے گا بلکہ ڈیڑھ دو سال تو قادیان کی تعلیم پر ہی جو مذہبی اور دینی تعلیم ہے خرچ ہو جائیں گے اور ڈیڑھ دو سال انہیں بیرونی ممالک میں سے کسی ملک میں کی انگریزی یا عربی کی تعلیم دلانی پڑے گی تب کہیں جا کر وہ کام کے قابل بن سکیں گے۔پس اس کی کے لئے آج ہی تیاری کی ضرورت ہے۔میں نے بتایا تھا کہ اس وقت ہمارے پاس ۱۲ نوجوان کی ہیں جو یا تو انگریزی کے گریجوایٹ ہیں یا عربی کے گریجوایٹ ہیں لیکن ابھی اور بہت سے نو جوانوں کی ضرورت ہے۔پہلے کام کو شروع کرنے کے لئے بھی اور آئندہ کام کو وسیع کرنے کے لئے بھی۔پس میں آج پھر اپنی جماعت کے نوجوانوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ ہمت کر کے آگے آئیں اور اس جوش کا ثبوت دیں جس کا اظہار وہ اس طرح کیا کرتے ہیں کہ ہم اپنی جانیں احمدیت کی عزت کی حفاظت کے لئے قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔آجکل اسلام کو اس کی ضرورت نہیں کہ تلوار اور بندوق سے جنگ کر کے جان قربان کی جائے بلکہ آجکل اپنی کی جان قربان کرنے کا صرف یہی ذریعہ ہے کہ نوجوان اپنی تمام زندگی اللہ تعالیٰ کے کلمہ کے اعلاء کی کے لئے صرف کر دیں اگر ہماری جماعت کے نوجوان اپنی زندگیاں خدمت دین کے لئے وقف کر دیں تو وہ دشمن کو کہہ سکتے ہیں کہ تم تو کہتے ہو یہ جماعت گندی ہوگئی ، اس جماعت میں کوئی قربانی کی روح نہیں رہی، یہ دین سے غافل اور لا پروا ہو چکی ہے پھر اگر یہ جماعت ایسی ہی ہے تو ہم لوگ کہاں سے پیدا ہو گئے جنہوں نے اپنی زندگی کی ہر گھڑی خدا تعالیٰ کے دین کے اغلاء کے لئے وقف کر دی ہے۔یہ بہترین جواب ہوگا جو ہمارے نوجوان اپنے عمل سے دشمنوں کو کی دے سکتے ہیں لیکن یاد رکھنا چاہیے کہ اس وقف کی شرائط وہی ہیں جو شائع ہو چکی ہیں بعض لوگ یونہی اپنے نام پیش کر دیتے ہیں اور ساتھ ہی کچھ مجبوریاں اور کچھ شرطیں بھی لکھ دیتے ہیں۔یہ بالکل نادرست طریق ہے ہماری طرف سے جس قدر شرائط ہیں وہ چھپی ہوئی موجود ہیں۔