خطبات محمود (جلد 19) — Page 867
خطبات محمود ۸۶۷ سال ۱۹۳۸ ء عیسائیوں کو ساکت کر سکتا ہے لیکن اگر ہم نے یورپ میں اس قسم کے جوابات شائع کرنے شروع کر دیئے تو پھر عیسائی ہماری منتیں کرنے لگ جائیں گے کہ ایسا نہیں چاہیے اور میرا ارادہ ہے کہ اگر یورپ کے عیسائی اس طریق سے باز نہ آئے تو انگلستان میں بھی اپنے مبلغین کو اسی قسم کا جواب دینے کی ہدایت کر دوں پھر انہیں خود بخود معلوم ہو جائے گا کہ یہ طریق کہاں تک پُر امن ہے۔ اب تو وہاں کی گورنمنٹ یہ کہ دیا کرتی ہے کہ ہمارے ہاں اس قسم کے مصنفین کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے کوئی قانون نہیں لیکن جب ہم بھی ایسی باتوں کو شائع کریں گے تو اس وقت دیکھیں گے کہ وہاں کوئی قانون بنتا ہے یا نہیں ۔ تو اس قسم کی مجبوریاں بعض دفعہ انسان کو اپنا طریق بدلنے پر مجبور کر دیا کرتی ہیں لیکن جب تک مجبوریاں نہ ہوں ہم اپنا پہلا طریق عمل ہی جاری رکھیں گے اور کہیں گے کہ ان باتوں کا خدا خود فیصلہ کرے گا ہمیں جواب دینے کی کیا ضرورت ہے ہاں جب الہی قانون ہمیں اس بات کی ہدایت کرے کہ تم جواب دو تو پھر ہم جواب دینے پر مجبور ہو نگے اور میں جانتا ہوں کہ پھر یہی لوگ ہمارے آگے ہاتھ جوڑیں گے اور کہیں گے یوں نہیں کرنا چاہیے۔ مجھے مجبوراً آج ان امور کے متعلق کچھ کہنا پڑا اور نہ ان دنوں میں تحریک جدید کے متعلق خطبوں میں مشغول ہوں اور آج بھی کچھ نہ کچھ اس موضوع کے متعلق کہنا چاہتا ہوں گواب تین بجنے والے ہیں اور وقت بہت ہی کم رہ گیا ہے مگر پھر بھی میں دو چار منٹ میں ایک اہم امر کی طرف جماعت کے دوستوں کو توجہ دلا دیتا ہوں۔ میں بتا چکا ہوں کہ بیرونی ممالک میں تبلیغ اسلام کے لئے اور اس ملک میں بھی اللہ تعالیٰ کا نام بلند کرنے اور سلسلہ کے کاموں کو مضبوطی سے چلانے کے لئے مجھے ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو اپنی زندگیاں خدمت دین کے لئے وقف کریں۔ میں شروع سے بتاتا چلا آ رہا ہوں کہ تحریک جدید کا کام وسیع کرنے کے لئے ہماے پاس روپیہ نہیں ۔ اگر ساری جماعت اپنی ساری دولت بھی دے دے تب بھی اتنا روپیہ ہمارے ہاتھ میں نہیں آ سکتا جس کے ذریعہ سے ہم اس کام کو سرانجام دے سکیں جو اس وقت ہمارے سامنے ہے۔ اگر ہم کام کر سکتے ہیں تو اسی طرح کہ نوجوان اپنی زندگیاں وقف کریں اور وہ قلیل گزاروں پر جو ان کی حیثیت کے لحاظ سے قلیل ہوں کام کریں ۔ چونکہ حقیقت بھی یہی ہے