خطبات محمود (جلد 19) — Page 855
خطبات محمود ۸۵۵ سال ۱۹۳۸ ء اس کے بزرگوں کی نسبت استعمال کر دیں گے اور کہیں گے کہ یہ لفظ ہم اس لئے استعمال کر رہے ہیں تا دوسرے کا دل بھی نہ دکھے اور ہماری طرف سے جواب بھی ہو جائے ۔ بہر حال تھوڑے ہی دنوں میں گورنمنٹ کے رویہ سے یہ بات معلوم ہو جائے گی کہ آیا یہ اشتہارات اُس کی مرضی اور خوشی سے بانٹے گئے تھے یا اس کے علم کے بغیر بانٹ دیئے گئے تھے اور واقع میں اُس نے انہیں ایسا ہی بُرا سمجھا ہے جیسے ہر شریف آدمی انہیں برا سمجھتا ہے۔ دو چار ہفتوں میں یہ بات کھل جائے گی اگر گورنمنٹ نے ان الفاظ کو کوئی اشتعال انگیز بات قرار نہ دیا تو آپ لوگوں کے ہاتھ قانون کے ماتحت ایک نیا حربہ آ جائے گا (اور ہماری تعلیم بھی یہی ہے کہ قانون کے ماتحت چلا جائے ) اور اگر گورنمنٹ نے اپنے ان اختیارات کو استعمال کیا جن اختیارات کو وہ سنبھال سنبھال کر رکھتی ہے اور جنہیں چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوتی تو گورنمنٹ کے متعلق ہمیں جو شکوہ ہے وہ آپ ہی دور ہو جائے گا۔ اس کے بعد میں اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہوں کہ حسب عادت اس موقع پر مولوی محمد علی صاحب نے بھی اظہار خیالات کیا ہے وہ کہتے ہیں اگر یہ معلوم کرنا ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی حقیقی جماعت کونسی ہے تو اس کے لئے چند خصوصیات کا دیکھنا ضروری ہے ہے ۔ وو ة ہے۔ یہ یہ سب سے پہلی چیز نیکی اور بلند اخلاقی ہے۔ ذرا غور کرو۔ وہ شہرت قادیان کی جو نیکی اور راستبازی سے حاصل ہوئی تھی کیا وہ اب باقی ہے۔ شاید کوئی کہے کہ حضرت مسیح موعود کو بھی لوگ گالیاں دیتے تھے اور بُرا بھلا کہتے تھے۔ شاید کوئی نا پاک الزام بھی لگاتے ہوں لیکن با سب دشمن اور مخالف تھے ۔ دشمن ایسا کیا ہی کرتے ہیں ۔ کیا دشمن حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جھوٹ اور نا پاک الزام نہیں لگاتے لیکن رنجدہ بات یہ ہے کہ قادیان میں دشمن نہیں بلکہ مرید کہلانے والے، زندگیاں وقف کرنے والے، جان و مال فدا کرنے والے آج کیا کہتے ہیں ۔ میرا دل تو کانپ اُٹھا آج ہائیکورٹ کا ایک فیصلہ پڑھ کر جس میں ایک مرید کی شہادت درج ہے یعنی مولوی شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کے ایک عدالتی بیان کو اس فیصلہ میں نقل کیا گیا ہے۔ وہ بیان کیا ہے؟ وہ اس قدر افسوسناک ہے کہ میں اس کو اپنی زبان سے بیان کرنا بھی پسند ہے کہ میں نہیں کرتا ۔ اس قدر بُرے واقعات اور حالات قادیان کے اس میں بتائے گئے ہیں کہ دل ان کو