خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 852 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 852

خطبات محمود ۸۵۲ سال ۱۹۳۸ ء دیتے ہیں جو دوسری جگہوں میں ایسے لوگوں کو ہرگز نہیں دی جاسکتیں جو اس جگہ کی اکثریت کے نزدیک واجب الاحترام ہوں بلکہ جہاں تک میں سمجھتا ہوں وہ فقرات جو انہوں نے ہمارے متعلق استعمال کئے ہیں وہ اس قسم کی گالیوں پر مشتمل ہیں کہ ادنیٰ سے ادنی اقوام کے لوگ بھی ایسی گندی گالیاں نہیں دیا کرتے ۔ پس یہ گالیاں گورنج کا موجب بھی ہوں مگر ایک لحاظ لحاظ سے یہ ہماری فتح کی علامت بھی ہیں کیونکہ جو لوگ اخلاق کے ذریعہ فتح حاصل کیا کرتے ہیں ان کے لئے یہ کامیابی اور خوشی کی بات ہے کہ دشمن اب ننگا ہو گیا ہے اور اس نے اپنے اندرونی گند کو بالکل ظاہر کر کے رکھ دیا ہے اور پہلے جو بات مخفی تھی وہ اب سب کو معلوم ہو گئی ہے اور ہر ایک کو نظر آ گیا ہے کہ ان کے اصل خیالات کیا ہیں ۔ پھر جن حکام نے ایسا جلسہ کروا کے اس قسم کے اشتہار بانٹنے میں مدد کی ہے۔ میں سمجھتا ہوں وہ بھی ایک حد تک ننگے ہو گئے ہیں اور اب گورنمنٹ کا کوئی حق نہیں ہوگا کہ وہ ہم سے یہ مطالبہ کرے کہ اس قسم کے الفاظ ہم دوسری جماعتوں کے لیڈروں اور اماموں کی نسبت استعمال نہ کریں ۔ اگر عیسائیوں کے یسوع کی نسبت ( جو اُن حضرت عیسی علیہ السلام سے بالکل مختلف وجود ہے جن کا ذکر قرآن کریم میں آتا ہے اور جو ہمارے نزدیک واجب الاحترام ہستی ہیں ) ہماری طرف سے وہی الفاظ استعمال کئے گئے جو ہمارا دشمن ہمارے متعلق استعمال کرتا ہے تو یقیناً گورنمنٹ کا کوئی حق نہیں ہوگا کہ وہ کہے تم اشتعال انگیزی سے کام لیتے ہو۔ کیونکہ اس نے اپنے قانون اور اپنے عمل سے ثابت کر دیا ہے کہ یہ بات جائز ہے۔ باقی میں نے بتایا ہے کہ ہائیکورٹ کے فیصلہ میں کسی کو ٹیشن کا آ جانا اسے کوئی اہمیت نہیں دے دیتا ۔ آخر جج نے جب الزام ثابت کرنا تھا تو اس کے لئے سوائے اس کے اور کیا صورت تھی کہ وہ ان کی کچھ گالیاں اپنے فیصلہ میں نقل کر دیتا اور کہہ دیتا کہ چونکہ یہ الفاظ اشتعال انگیز ہیں اس لئے تم مجرم ہوا اور تم سے جو ضمانت طلب کی گئی تھی وہ بالکل درست ہے اس کو ٹیشن پر خوش ہو جانا تو ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی حج اپنے فیصلہ میں لکھے کہ چونکہ فلاں نے قتل کیا ہے اس لئے اسے پھانسی کی سزا دی جاتی ہے ۔ اب کوئی اور شخص اس فیصلہ کو لے لے اور کہے چونکہ حج نے اپنے فیصلہ میں قتل کا ذکر کر دیا ہے اس لئے معلوم ہوا کہ قتل جائز ہے ۔ حج تو ان کے فقرات کو معیوب قرار دیتا ہے اور ان کے کچھ الفاظ اپنے فیصلہ میں نقل کر کے بتاتا ہے کہ