خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 851 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 851

خطبات محمود ۸۵۱ سال ۱۹۳۸ء ہر شریف انسان ان الفاظ کو پڑھ کر یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ آیا وہ گالیاں دیتے ہیں یا نہیں اور آیا وہ بات جو میں نے کہی تھی وہ صحیح تھی یا نہیں۔بھلا گالیوں سے کسی کا کیا بگڑتا ہے۔ان کی گالیوں سے ہمارا تو کوئی نقصان نہیں چاہے وہ گالیاں کو ٹیشن Quotation) کے طور پر ہائی کورٹ کے کسی فیصلہ میں ہی کیوں نہ آگئی ہوں۔ہائیکورٹ کے فیصلہ میں کسی کی گالیاں نقل ہو جانا گالیاں دینے والے کی حقیقت واضح کرتا ہے۔اس کی بات کو تقویت نہیں دے دیتا۔اوّل تو مذہبی معاملات میں حکومتوں یا ہائیکورٹوں کے فیصلوں کا کوئی دخل ہی نہیں ہوتا۔لیکن جو اشتہار شائع کیا گیا ہے اور اس میں جو فیصلہ درج کیا گیا ہے ( گوسارا فیصلہ میں نے ابھی نہیں پڑھا ) اسی سے ظاہر ہے کہ اس میں ان کی کوئی کامیابی نہیں کیونکہ ہائیکورٹ کا حج اس فیصلہ میں یہ لکھتا ہے کہ چونکہ انہوں نے ایسے ایسے فقرات استعمال کئے ہیں اور ان سے اشتعال اور نقص امن کا اندیشہ ہے اس لئے مقامی حکام نے مصری صاحب کے خلاف جو کارروائی حفظ امن کی ضمانت کے متعلق کی تھی وہ مناسب تھی اور ان کی درخواست مسترد کی جاتی ہے۔حج یہ نہیں کہتا کہ میں نے تحقیقات کی ہے اور تحقیق کے بعد میرا یہ فیصلہ ہے کہ واقع میں وہ الزامات درست ہیں جو عائد کئے گئے ہیں بلکہ وہ کہتا ہے کہ چونکہ انہوں نے ایسے الفاظ کہے ہیں اور یہ سخت اشتعال انگیز ہیں۔اس لئے میں ان کی ضمانت لینے کو درست قرار دیتا ہوں اس پر خوش ہوتے پھرنا اور کہنا کہ دیکھو ہائی کورٹ کے ایک جج کے فیصلہ میں یہ بات آگئی ہے یہ تو انتہا درجہ کی حماقت اور نادانی ہے۔حج تو یہ فیصلہ کی کرتا ہے کہ انہوں نے واقع میں اشتعال انگیزی سے کام لیا ہے۔یہ تو نہیں کہتا کہ اس نے ان الزامات کی تحقیق کی ہے اور انہیں درست پایا ہے۔وہ صرف یہ کہتا ہے کہ انہوں نے یہ یہ گالیاں دی ہیں اور ان وجوہ سے میرے نزدیک انہوں نے اشتعال انگیزی سے کام لیا ہے۔یہ علیحدہ سوال ہے کہ ایسے فیصلوں کی اشاعت ملک کا امن قائم کرنے میں ممد ہے یا اس کے مخالف۔یہ سوال گورنمنٹ سے تعلق رکھتا ہے۔ان لوگوں سے محض اس حصہ کا تعلق ہے جس حصہ کی میں انہوں نے ہم کو گالیاں دیں اور جج نے ان کی گالیوں کو ان پر حجت تمام کرنے کے لئے اور کی ان کی اشتعال انگیزی ثابت کرنے کے لئے اپنے فیصلہ میں نقل کر دیا اور میں سمجھتا ہوں اس فیصلہ سے جماعت پر یہ امر واضح ہو گیا ہو گا کہ یہ نہ صرف گالیاں دیتے ہیں بلکہ ایسی گندی گالیاں