خطبات محمود (جلد 19) — Page 844
خطبات محمود ママ سال ۱۹۳۸ ء نہیں ہو سکتا ، کیونکہ بعض دوست میرے لئے کوٹ وغیرہ لباس بنوا کر بھیج دیتے ہیں اس لئے میں خود تو وہ بنواتا ہی نہیں ،کرتہ یا پاجامہ عام طور پر بنواتا ہوں مگر وہ بھی گھر والوں نے بتایا ہے کہ چار سال سے نہیں بنے ۔ کوٹ بھی میں تھوڑا تھوڑا عرصہ پہن کر دوستوں کو دے دیتا ہوں مگر بعض دوست اور بھیج دیتے ہیں اور اس طرح یہ سلسلہ چلا جاتا ہے ۔ مجھے اور بھی ایسے لوگ معلوم ہیں جنہوں نے دو دو چار چار سال سے کپڑے نہیں بنوائے اور اس میں سرا سرا نہی کا فائدہ ہے ۔اگر اس بچت سے وہ چندہ دیتے ہیں تو بھی ان کا فائدہ ہے اور اگر جمع کرتے ہیں تو بھی ان کا یا ان کی اولادوں کا ۔ تو یہ تحریک جدید کا بہت ضروری حصہ ہے، جس کی طرف جماعت کو توجہ کرنی چاہئے ۔ لباس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اس قدر سادگی پسند فرماتے تھے کہ در حقیقت آج آپ کے حالات پڑھ کر مجھے تو شرم آجاتی ہے ۔ گو آجکل حالات بدل گئے ہیں اور حالات کے ماتحت تبدیلیاں بھی کرنی پڑتی ہیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ جو محبت ہے اس کی وجہ سے حالات کی تبدیلی کے باوجو د شرم آنے لگتی ہے ۔ حضرت عمررؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ مجھے ایک چغہ پسند آیا جو کوئی شخص بیچنے کیلئے لایا تھا میں اسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے گیا اور عرض کی کہ یا رَسُولُ اللہ ! اسے خرید لیجئے ، عید وغیرہ کے موقع پر پہننے کے کام آئے گا اور اچھا لگے گا ۔ حضرت عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ میری یہ بات سن کر آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے منہ پر سرخی آگئی، گویا آپ نے اسے بہت ناپسند فرمایا اور فرمایا یہ تو قیصر و کسری والی باتیں ہیں عمر ! یہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے نہیں رکھیں لیے شاید رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خیال آیا کہ عمر کو یہ چغہ پسند آیا ہے کیونکہ بعد میں جب کسی شخص نے ویسا چغہ بطور ہر یہ آپ کو بھیجوایا تو آپ نے وہ چغہ حضرت عمرؓ کے پاس بھجوا دیا۔ حضرت عمرؓ نے عرض کی کہ یا رسول الله ! آپ کو یاد ہوگا۔ میں نے ایک دفعہ آپ سے ایسے ہی چغہ کو خریدنے کو کہا تھا تو آپ نے سخت ناپسند فرمایا تھا مگر اب آپ نے اسی قسم کا چغہ میرے پاس بھیج دیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے تمہارے پہننے کیلئے نہیں بھیجا اسے پھاڑ پھوڑ کر عورتوں کے کپڑے بنوا لو ہے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کپڑوں میں جس قدر سادگی اختیار کرتے تھے اس میں سے تغیر زمانہ کے حصہ کو اگر منہا بھی کر دیا جائے تب بھی وہ بہت بڑی سادگی ہے۔ یہ بھی صحیح ہے کہ اس زمانہ میں کپڑا بہت کم ہوتا تھا