خطبات محمود (جلد 19) — Page 843
خطبات محمود ۸۴۳ سال ۱۹۳۸ء اور اس سے قمیضیں بنوائی جائیں۔انہوں نے لے کر کہا کہ الحمد للہ چار سال کے عرصہ میں آپ نے قمیضوں کیلئے کپڑا نہیں خریدا تھا اور آپ کی پہلی قمیضیں ہی سنبھال سنبھال کر اب تک کام چلایا جا رہا تھا یا ایک دو قمیضوں کے کپڑوں سے جو کوئی تحفہ کے طور پر دے جاتا تھا ، اب یہ مشکل دور ہوئی تو خود میں نے کپڑوں میں بڑی احتیاط سے کام لیا ہے۔میں ضمناً یہ بات بھی کہنا چاہتا ہوں کہ اس دوست کے خط کو پڑھ کر معاً میرے دل میں خیال آیا کہ پچاس سال کی عمر ہونے کو آئی ہے ، جاگتے ہوئے تو میں نے کبھی کسی سے مانگا نہیں مگر خواب میں جا مانگا اور گو یہ میں نے نہیں مانگا تھا بلکہ فرشتوں نے مانگا تھا ، لیکن یہ امر واقع ہے کہ پھر بھی مجھے شرم محسوس ہوئی اور میں نے اس وقت دعا کی کہ اے خدا! جس طرح تو نے اپنے فضل سے جاگتے ہوئے مانگنے سے اب تک بچایا ہے خواب کے سوال سے بھی بچائے رکھ۔اور اگر خواب میں کسی کو تحریک کرنی ہو تو میرے منہ سے نہ کروا۔اور یہ خواب میں مانگنے کا بھی میری یاد کے مطابق پہلا ہی واقعہ ہے۔ورنہ خواب میں بھی میں نے کسی سے کبھی نہیں مانگا۔ایک دفعہ ایک دوست نے لکھا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لائے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اتنے روپیہ کی ضرورت تھی اس میں سے اتنا پورا ہو گیا ہے اور اتنا ابھی باقی ہے جو تم قرض دے دو۔سو میرے پاس اس قدر رقم ہے، اگر خواب ظاہری تعبیر کے مطابق درست ہے تو اطلاع ملنے پر روپیہ بھجوا دوں گا۔یہ خواب بالکل بچی تھی بعینہ حالات اسی طرح تھے مجھے اس وقت کچھ ضرورت تھی، اس میں سے اسی قدر رقم کا جو خواب میں اس دوست کو بتائی گئی تھی انتظام ہو گیا تھا اور اس قدر رقم جو ان سے طلب کی گئی تھی مہیا ہوئی باقی تھی۔میں نے انہیں کی اطلاع دی اور انہوں نے وہ رقم بھجوا دی۔فَجَزَاهُ الله اَحْسَنَ الْجَزَاءِ۔خیر تو اس شخص کا خط پڑھ کر جنہوں نے کپڑا بھجوایا تھا بے اختیار میرے منہ سے دعا نکلی کہ خدا وندا ! خواب میں بھی میں مانگنا پسند نہیں کرتا آئندہ اپنے فضل سے ایسا خواب بھی کسی کو نہ دکھا ، جس میں سوال میرے منہ سے ہو۔مجھے تو تو اپنے ہی درکا سوالی بنارہنے دے۔ہاں میں کہ رہا تھا کہ کھانے کے متعلق پا بندی دوستوں نے کی ہے مگر لباس کے متعلق ایک حصے نے کی ہے اور ایک نے نہیں کی۔میرے لئے تو اس پابندی کا سوال اکثر پیدا ہی