خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 834 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 834

خطبات محمود ۸۳۴ سال ۱۹۳۸ - اس وقت حاکم یا قاضی کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ دخل دے کر اس خرابی کو دور کرے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طلاقیں الگ الگ وقتوں میں دیئے جانے کی شرط رکھی ہے مگر آپ کی زندگی کے بعد جب لوگوں میں یہ رواج بکثرت ہونے لگا کہ بیوی پر ناراض ہوئے اور کہہ دیا کہ تجھے طلاقیں ہیں۔تو پہلے علماء نے ایسی طلاقوں کو ایک ہی طلاق قرار دیا لیکن جب یہ رواج کی ترقی پکڑتا گیا تو شریعت کی بے حرمتی کی روح کو دور کرنے کیلئے حضرت عمر نے اعلان کر دیا کہ اگر کوئی ایک دفعہ ہی بہت سی طلاقیں دے گا تو میں اسے تین ہی سمجھوں گا تو جس حد تک اسلام کے احکام میں متغیر حالات میں تبدیلی کی اجازت ہے ان میں تبدیلی کی جاسکتی ہے اور اسی کا نام سیاست ہے، اسی کا نام حکمت اور اسی کا نام فلسفہ ہے۔پس مذہب کیلئے بھی ایک سیاست کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ جو سادہ زندگی کی تحریک میں نے تحریک جدید کے سلسلہ میں کی تھی اس کا ایک حصہ مذہبی سیاست کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔یعنی اس زمانہ میں چونکہ اسلامی حکومت نہیں کی ہے اس لئے وہ مساوات جسے حکومتیں ہی قائم کر سکتی ہیں اس زمانہ میں قائم نہیں ہو سکتی اور آجکل مسلمان بھی امیر و غریب میں ویسا ہی امتیاز کرنے لگے ہیں جیسا ہندو یا عیسائی کرتے ہیں کیونکہ مسلمانوں کی اپنی حکومت نہیں اور ان کے سامنے کوئی نمونہ نہیں۔میری خلافت پر اب چھپیں سال پورے ہونے کو آئے ہیں اور میں شروع سے ہی یہ مسئلہ سمجھانے کی کوشش کرتا آیا ہوں مگر اب تک جماعت میں یہ قائم نہیں ہو سکا کہ ایسا ادب جو شرک کے مشابہ ہو یا جو ادب کا اظہار کرنے والے کو انسانیت کے مقام سے گرانے والا ہونا جائز ہے۔مثلاً یہاں کے لوگوں کی میں دستور ہے کہ جب کسی بڑے آدمی یا بزرگ کو ملنے کیلئے آتے ہیں تو جوتی اتار لیتے ہیں، بات کی کرنے لگیں تو ہاتھ جوڑ لیتے ہیں اور بیٹھنے کو کہا جائے تو نیچے بیٹھ جاتے ہیں۔اسلامی آداب کے لحاظ سے اسے ادب نہیں بلکہ انسانیت کی ہتک سمجھا جائے گا اور اسے نا پسندیدہ قرار دیا جائے گا۔چھپیں سال سے یہ بات میں سکھا رہا ہوں مگر ابھی تک اس پر عمل کرانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔اب تک یہی حالت ہے کہ بعض لوگ ملاقات کیلئے آتے ہیں تو جوتیاں اُتار دیتے ہیں اور جب اصرار کیا جائے کہ جوتیاں پہن کر آئیں تو پھر زمین پر بیٹھ جاتے ہیں اور پکڑ پکڑ کر اور اٹھا اٹھا کر انہیں کرسی یا فرش پر جیسی بھی صورت پر بٹھانا پڑتا ہے لیکن بیٹھنے کے بعد جب