خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 830 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 830

خطبات محمود ۸۳۰ سال ۱۹۳۸ء۔اب اس پر بھی بہت بڑی ذمہ داری عائد ہو چکی ہے اور اس کا فرض ہے کہ وہ دوسروں کی کی نسبت آگے بڑھنے کی کوشش کرے بلکہ جو نیا احمدی ہو اسے اس بات کی اجازت ہے کہ اگر وہ کی چاہے تو گزشتہ سالوں کے چندہ میں بھی شامل ہو جائے۔پس ہر نئے احمدی سے گزشتہ سالوں کا چندہ بھی قبول کیا جاسکتا ہے۔اس طرح وہ جسے پہلے اس تحریک کا علم نہ تھا یا جو پہلے کی طور پر نا دار تھا اس سے پہلے سالوں کا چندہ بھی قبول کیا جا سکتا ہے مثلاً فرض کرو ایک شخص پہلے طالبعلم تھا مگر بعد میں ملازم ہو گیا یا پہلے بریکا رتھا مگر بعد میں اسے کوئی ملازمت مل گئی ایسے تمام لوگوں سے ہی پہلے سالوں کا چندہ بھی قبول کر لیا جائے گا کیونکہ پہلے انہوں نے مجبوری سے اس میں حصہ لینے سے اجتناب کیا تھا جان بوجھ کر حصہ لینے سے انکار نہیں کیا تھا۔ہاں جنہیں گزشتہ سالوں کے چندہ میں شریک ہونے کی توفیق تھی اور وہ ان دنوں بر سر کار بھی تھے مگر انہوں نے جان بوجھ کر حصہ نہیں لیا انہیں اجازت نہیں۔وہ صرف نئے سال میں شامل ہو سکتے ہیں پچھلے سالوں میں نہیں۔یا د رکھو ایک بہت بڑا کام ہے جو ہمارے سامنے ہے، بہت بڑی مشکلات ہیں جنہیں میں اپنے سامنے دیکھتا ہوں ، ایک عظیم الشان جنگ ہے جو شیطان سے لڑی جانے والی ہے۔جو لوگ اس میں حصہ لیں گے وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کریں گے اور جولوگ حصہ نہیں لیں گے وہ اپنے اعراض سے خدا تعالیٰ کے کام کو کوئی نقصان نہیں پہنچاسکیں گے کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے اور اس نے بہر حال ہو کر رہنا ہے۔قضائے آسمان است ایں بہر حالت شود پیدا پس یہ کام ہو کر رہے گا اور اگر تم نہیں کرو تو تمہارا ہمسایہ کرے گا اور اگر وہ نہیں کرے گا تو کوئی اور کرے گا، بہر حال غیب سے اس کی ترقی کے سامان ہو نگے۔پچھلا پچاس سالہ تجربہ تمہارے سامنے ہے دشمن نے لاکھ رکاوٹیں ڈالیں ، اس نے کروڑ حیلے کئے ، اس نے طعنے بھی دیئے ، اس نے گالیاں بھی دیں، اس نے بُرا بھلا بھی کہا ، بڑے بڑے لوگ مخالفت کے لئے بھی اٹھے اور انہوں نے چاہا کہ اس سلسلہ کی ترقی کو روک دیں مگر خدا تعالیٰ کا کام ہو کر رہا اور اس کی نے الہام کر کے ایسے لوگ کھڑے کر دیئے جو اس کے دین کے انصار بنے اور یقیناً اب بھی ایسا ہی ہوگا لیکن میں چاہتا ہوں کہ تم میں سے کوئی کمزور ثابت نہ ہو بلکہ تم میں سے ہر شخص اپنے عمل سے