خطبات محمود (جلد 19) — Page 812
خطبات محمود ۸۱۲ کے فضل سال ۱۹۳۸ ء سے ہوا ہے اور جو تا ہماری جماعت کے دوست یہ سمجھیں کہ جو کچھ ہوا ہے وہ خدا تعالیٰ کچھ آئندہ ہو گا وہ بھی اُسی کے فضل سے ہوگا تا ایک طرف فتح کے نتیجہ میں جو بعض دفعہ کبر اور غرور پیدا ہو جاتا ہے وہ پیدا نہ ہو اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کے احسانات کے متعلق شکر کا جذبہ دل میں موجزن ہو ۔ یہ تحریک جدید کا مکمل ڈھانچہ ہے جس کا ایک پہلو تعلیم وتربیت ہے دوسرا پہلو تبلیغ واشاعت اور تیسرا پہلو دعا اور روزے ہیں تا جتنا کام بھی ہو اس یقین اور وثوق کے ساتھ ہو کہ یہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہوا ہے اور ہم آئندہ کی کامیابیوں کے لئے بھی اسی کی طرف اپنی توجہ رکھیں اور اس سے دعا کرتے رہیں کہ وہ ہماری مدد فرمائے ۔ میں گزشتہ خطبات میں بتا چکا ہوں کہ پہلے دور میں ہماری جماعت نے بے مثل نمونہ دکھایا ہے اور اس نے ایسی غیر معمولی قربانی اور جوش کا ثبوت دیا ہے کہ جس کا دشمن کو بھی اقرار ہے مگر میں یہ بھی بتا چکا ہوں کہ یہ کام زمین صاف کرنے کا تھا۔ اتنے کام پر ہی خوش ہو جانا اور اپنی تمام جدوجہد کو ختم کر دینا اللہ تعالیٰ کے حضور ہمیں کسی نیک نامی کا مستحق نہیں بلکہ كَالَّتِي نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ أَنْكَا نا کا مصداق بنانے والا ہے ۔ وہ عورت بھی آخر کچھ نہ کچھ کام کیا ہی کرتی تھی اور محنت کر کے سوت کا تا کرتی تھی مگر چونکہ جب کام کا وقت آتا تو وہ اپنے سوت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی اس لئے اس کی محنت اس کے کسی کام نہیں آتی تھی ۔ ہم نے بھی پہلے دور میں سوت کاتا ہے لیکن دوسرے دور میں ہم نے اس سوت کے کپڑے بنے اور نہ صرف خود پہنے بلکہ دوسروں کو بھی پہنانے ہیں اگر اس دور میں ہم نے سستی دکھائی تو یقیناً ہماری ساری محنت رائیگاں جائے گی اور ہمیں جس قدر نیک نامی حاصل ہو چکی ہے وہ سب بدنامی سے بدل جائے گی ۔ اس دوسرے دور میں مجھے بعض لوگ سُست نظر آتے ہیں مگر میرے لئے یہ کوئی تعجب انگیز بات نہیں ۔ میں نے اس تحریک کے شروع میں ہی بتایا تھا کہ کچھ لوگ وقتی مؤمن ہوا کرتے ہیں اور ایسے وقتی مؤمن ہر جماعت میں ہوا کرتے ہیں اور وقتی مؤمن سے میری مراد وہ لوگ ہیں سے میری ہ جو لڑائی جھگڑے کے وقت تو آگے آجاتے ہیں مگر جب مستقل اور لمبی قربانیوں کا موقع آتا ہے تو ہیں اور کا ۔