خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 8 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 8

خطبات محمود V سال ۱۹۳۸ ء ۔ ایک ایسا تفصیلی ہدایت نامہ لائے جس کا تعلق سیاست ، روحانیت اور تمدن تینوں سے تھا مگر توحید کی اہمیت انہوں نے بھی بتائی اور شرک سے بچنے کی لوگوں کو تعلیم دی ۔ پھر حضرت عیسی آئے تو انہوں نے شریعت کی ظاہری پابندی کو قائم رکھتے ہوئے حقیقت کی طرف لوگوں کو توجہ دلائی اور فرمایا کہ ظاہری پابندی تمہیں باطن کی اصلاح سے مستغنی نہیں کر سکتی ۔ چنانچہ آپ نے ایک طرف جہاں موسوی احکام کو اپنی اصل شکل میں قائم کیا وہاں جولوگ قشر کی اتباع کرنے والے تھے انہیں بتایا کہ اس ظاہر کا ایک باطن ہے اور اگر اس کا خیال نہ رکھا جائے تو ظاہر لعنت بن جاتا ہے مگر اس کے ساتھ آپ نے شرک کو نہیں بھلا یا اور اس سے بچنے کی لوگوں کو ہمیشہ نصیحت کی ۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور آپ نے دنیا جہان کے مسئلے بیان کئے ۔ آپ نے انسانوں کے آپس کے تعلقات پر روشنی ڈالی ، آپ نے انسانوں کے اس تعلق پر روشنی ڈالی جو اس کا خدا سے ہوتا ہے، آپ نے مردوں کے حقوق بیان کئے ، آپ نے عورتوں کے حقوق بیان کئے ، آپ نے بادشاہوں کے حقوق بیان کئے ، آپ نے رعایا کے حقوق بیان کئے ، آپ نے آقا کے حقوق بیان کئے ، آپ نے نوکر کے حقوق بیان کئے ، اسی طرح آپ نے وراثت کے مسئلے بیان کئے ۔ تمدن کے مسئلے بیان کئے ۔ معاشرت کے مسئلے بیان کئے ۔ معاش کے مسئلے بیان کئے ۔ غرض تمام مسائل آپ نے بیان کئے ،مگر سب سے بلند اور سب سے بالا آپ کی تعلیم میں بھی یہی بات تھی کہ اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا الله - میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود نہیں ۔ پس یہ مسئلہ ہمارے مسئلوں کی جان ہے۔ یہ مسئلہ سارے مسئلوں کی روح ہے ۔ یہ مسئلہ سارے مسئلوں کا مغز ہے اور باقی جو کچھ ہے وہ قشر ہے، وہ چھلکے ہیں ، وہ لوازمات ہیں ، وہ ضمنی چیزیں ہیں ۔ اصل جان اور روح اور مغز اور حقیقت توحید کا ہی مسئلہ ہے کیونکہ توحید ہی ہے جو خدا اور انسان میں محبت پیدا کرتی ہے اور جب تک یہ نہ ہو انسان کا ایمان کامل نہیں ہو سکتا ۔ جب تک انسان کی نظر کسی اور طرف بھی اُٹھتی رہتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس نے خدا تعالیٰ کا کامل حُسن نہیں دیکھا کیونکہ حُسنِ کامل کی علامت یہ ہوتی ہے کہ انسان کی نظر اس کو دیکھ کر کسی اور طرف نہیں اُٹھتی ۔ جب تک دنیا میں تمہیں اور بھی حسین نظر آئیں تم کبھی اِدھر دیکھو گے، کبھی اُدھر مگر جب تمہیں ایک ایسا حسین نظر آجائے گا جو اپنے حُسن میں کامل ہوگا تو پھر