خطبات محمود (جلد 19) — Page 9
خطبات محمود ۹ سال ۱۹۳۸ء تمہاری نظریں وہیں جم جائیں گی اور کسی دوسرے کی طرف نہیں اُٹھیں گی۔یہی معنے تو حید کے ہیں۔یعنی مومن کو اللہ تعالیٰ کا حُسن ایسے کامل رنگ میں نظر آ جائے کہ اس کے بعد خواہ دنیا جہان کی خوبصورت چیزیں اس کے سامنے پیش کی جائیں وہ نفرت اور حقارت سے انہیں ٹھکرا دے اور کہے کہ مجھے جو کچھ ملنا تھا مل گیا، مجھے کسی اور کی جستجو نہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے کھانے کا بھی محتاج بنایا ہے اور پینے کا بھی ، سونے کا بھی اور جاگنے کا بھی ، لیٹنے کا بھی اور چلنے پھرنے کا بھی اور پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھوں اور پاؤں اور دوسرے تمام اعضاء میں لذت اور سرور کی ایک حسن رکھ دی ہے۔چنانچہ اس کی زبان ، اس کے کان، اس کے ہاتھ اور اس کے پاؤں اور اس کے جسم کے ہر حصہ میں خدا تعالیٰ نے لذت اور سرور کی حسن رکھی ہوئی ہے اور ان حتوں کے ذریعہ ہی وہ لاکھوں کروڑوں چیزوں سے لطف اندوز ہوتا ہے اور آرام حاصل کرتا ہے۔مگر تو حید کا مقام یہ ہے کہ مومن ان ساری چیزوں کے باوجود خدا تعالیٰ کی محبت میں سرشار رہتا ہے اور یہ مزے اور آرام اسے اللہ تعالیٰ کی محبت سے غافل نہیں کر سکتے۔اور اگر ہم غور کریں تو حقیقتا یہ تمام مزے اور لذتیں اور آرام اس لئے نہیں کہ یہ حقیقی لذتیں اور حقیقی آرام ہیں بلکہ اس لئے ہیں کہ یہ ہمارے لئے ایک امتحان اور آزمائش کا ذریعہ ہیں۔خدا ہمارے لئے دنیا میں مزے دار چیزیں پیدا کرتا ہے اور ہماری زبان میں اس مزے کے چکھنے کی طاقت رکھتا ہے اور پھر کہتا ہے اب میں دیکھوں گا تم اس مزے میں ہی محو ہو جاتے ہو یا میری محبت کا بھی کچھ خیال رکھتے ہو۔وہ دنیا میں حسین ترین نظارے اور حسین ترین شکلیں پیدا کرتا ہے اور انسان کو آنکھیں دیتا ہے کہ وہ ان حسنوں کو دیکھے اور ان سے لذت حاصل کرے۔اور پھر کہتا ہے اب میں دیکھوں گا کہ ان محسنوں کو دیکھ کر بھی تمہیں میری محبت یا د رہتی ہے یا نہیں۔ایک نابینا اگر کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے سوا مجھے کوئی حسین نظر نہیں آتا تو اس کی یہ تعریف کوئی زیادہ قیمت نہیں رکھتی کیونکہ اُس نے کب دُنیا کے حسین دیکھے کہ ان کو دیکھنے کے بعد وہ خدا تعالیٰ کی محبت کو نہ بھولا۔ایک بہرا اگر کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی آواز سے بڑھ کر مجھے اور کوئی شیریں آواز معلوم نہیں ہوتی جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ بلند ہوئی، تو اُس کی یہ تعریف کوئی زیادہ قیمت نہیں رکھتی کیونکہ کب اُس نے دنیا کی دلکش آواز میں