خطبات محمود (جلد 19) — Page 763
خطبات محمود ۷۶۳ سال ۱۹۳۸ ء ملحوظ رکھتے ہوئے جن کا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کوئی شخص دعا کرے تو اس کی دعا ضرور قبول ہو جاتی ہے۔ اگر کوئی مجھے مقدس سے مقدس مقام میں بھی کھڑا کر دے تو میں وہاں کھڑا ہو کر یہ قسم کھانے کے لئے تیار ہوں کہ اس قسم کی دعا ہرگز رد نہیں ہوتی ۔ کوئی قوم جو خدا تعالیٰ کے لئے مستقل قربانیاں کرنے کے ارادہ سے کھڑی ہو جائے اور پھر قربانیاں کرتی چلی جائے اور دعا سے بھی کام لے وہ ضرور کامیاب ہو ۔ ہو جاتی ہے۔ سابق انبیاء میھم السلام کی عليهم جماعت کا نمونہ ہمارے سامنے ہے کیا دنیا میں کوئی بھی نبی ایسا گزرا ہے جو نا کام ہوا ہو؟ تاریخ سے کوئی ایک نبی ایسا ثابت نہیں کیا جا سکتا جو اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوا ۔ دعوی نبوت کے بعد نا کام وہی رہا ہوگا جس نے جھوٹا دعوی کیا ہو گا سچا دعوی کرنے والا کبھی نا کام نہیں ہوا۔ یہ الگ امر ہے کہ کامیابی جلد آئے یا دیر سے۔ بہر حال سچے نبی کو کامیابی ہوتی ضرور ہے اور پھر وہ بڑھتی چلی جاتی ہے اور ان کا ہر قدم ترقی کی طرف اٹھتا ہے۔ تم نے دیکھا کہ گزشتہ سالوں میں جماعت پر کیسے کیسے فتنے آئے ۔ ہر دفعہ لوگوں نے یہی سمجھا کہ اب یہ سلسلہ مٹ جائے گا مگر ہر دفعہ تم نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے سلسلہ کی معجزانہ رنگ میں حفاظت کی اور کوئی دن ایسا نہیں چڑھا جس میں پہلے سے زیادہ جماعت نے ترقی نہیں کی ۔ مختلف ممالک میں احمدیت پھیلتی جا رہی ہے اور اسی طرح پھیلتی پھیلتی انشاء اللہ ساری دنیا کو ایک دن ادھر کھینچ لائے گی ۔ یہ چوتھا سبق جو رمضان سے حاصل ہوتا ہے اس کا تعلق بھی تحریک جدید کے ساتھ ہے کیونکہ میں نے اُنیسواں مطالبہ یہی رکھا ہے کہ دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ سلسلہ کو ترقی دے۔ دعا کے بغیر ہماری قربانیوں کے وہ نتائج پیدا نہیں ہو سکتے جو ہم دیکھنے کے خواہش مند ہیں کیونکہ ان نتائج کا پیدا کرنا ہمارے اختیار میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے ۔ ایک ملک جو بارش کا محتاج ہو تم اگر محنت کر کے اس کی زمین میں ہل بھی چلا دو، عمدہ بیج بھی ڈال دو لیکن آسمان سے بارش نہ اُترے تو تمہاری محنت کیا نتیجہ پیدا کر سکتی ہے۔ اسی طرح جس نتیجہ کے ہم امید وار ہیں وہ آسمانی بارش چاہتا ہے اور وہ آسمانی بارش دعاؤں سے ہی نازل ہو سکتی ہے ۔ پس وہ رمضان میں نازل ہو سکتی ۔ ہے ۔ پس رمضان میں تحریک جدید سے اور تحریک جدید میں رمضان سے فائدہ اٹھانا چاہئے ۔ یہ چار بڑی بڑی مناسبتیں رمضان کی تحریک جدید سے ہیں اور یہ چار مناسبتیں