خطبات محمود (جلد 19) — Page 760
خطبات محمود ۷۶۰ سال ۱۹۳۸ جرمن قوم کی تعریف نہیں کی جائے گی کیونکہ جبر سے اس سے قربانیاں کروائی جاتی ہیں لیکن تمہاری تعریف کی جائے گی کیونکہ تم نے خدا تعالیٰ کیلئے اپنے نفس پر پابندیاں عائد کیں۔پس گوان کی تکلیف زیادہ ہے مگر ان کا ثواب کم ہے کیونکہ طاقت اور قانون کے زور سے ان سے یہ قربانیاں کرائی جارہی ہیں اور گو تمہاری قربانیاں اور تکلیف کم ہے مگر تمہارا ثواب زیادہ ہے کیونکہ تم اپنی مرضی سے خدا تعالیٰ کیلئے قربانیاں کر رہے ہولیکن بہر حال اس کا فائدہ انہیں پہنچ گیا اور گو طاقت اور قانونِ حکومت کے ڈر سے انہوں نے قربانیاں کیں لیکن اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دس سال کے اندر ایک مُردہ قوم ترقی کر کے معراج کمال تک پہنچ گئی۔یہی حال اٹلی کا ہے۔اٹلی کی قوم بھی مُردہ تھی ،مگر اس نے بھی مشقتوں کا اپنے آپ کو عادی بنا کر اور متواتر قربانیاں کر کے نہ صرف اپنی کھوئی ہوئی عزت حاصل کی بلکہ پہلے سے بھی زیادہ کی دبد بہ اور رُعب حاصل کر لیا۔اسی طرح جاپان بھی مُردہ تھا مگر جب ان میں قربانی کی روح پیدا ہو گئی تو وہ بھی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہو گیا۔تو رمضان میں قربانی اور استقلال کے ساتھ قربانی کا سبق مؤمنوں کو سکھایا جاتا ہے اور انہیں مشقت برداشت کرنے کا عادی بنایا جاتا ہے۔اگر اس سے فائدہ اٹھایا جائے اور تحریک جدید کے مطالبات کو عملی جامہ پہنایا جائے تو یقیناً وہ اہم ثمرات پیدا ہونگے جو الہی قوموں کی جد و جہد کے نتیجہ میں پیدا ہوا کرتے ہیں۔ہمارے ثمرات یقیناً دیر کے بعد آنے والے ہیں اور ہماری مثال اٹلی ، جرمن اور جاپان کی نہیں۔وجہ یہ کہ اٹلی، جرمن اور جاپان نے ملکوں کو فتح کیا مگر ہم نے دلوں کو فتح کرنا ہے اور دلوں کو فتح کرنا ملکوں کے فتح کرنے سے زیادہ مشکل ہوا کرتا ہے۔پس ہماری فتح کویقینی ہے مگر وہ کچھ دیر کے بعد دیر آید درست آید کے مقولہ کے مطابق آنے والی ہے۔اس کے علاوہ ہم میں اور ان میں ایک اور فرق بھی ہے اور وہ یہ کہ اگر جرمنی نے ترقی کی تو کی صرف جرمنی کی قوم کو اس نے عروج پر پہنچایا ، اگر اٹلی نے ترقی کی تو صرف اٹلی کی قوم کو اس نے کی عزت کا مستحق بنایا اور اگر جاپان نے ترقی کی تو صرف جاپانیوں کو اس نے معراج کمال تک پہنچایا لیکن اگر ہماری کوششوں کو اللہ تعالیٰ بار آور فرمائے تو وہ صرف ہمیں ہی نہیں بلکہ