خطبات محمود (جلد 19) — Page 758
خطبات محمود ۷۵۸ سال ۱۹۳۸ء ہمیں یہ بتا تا ہے کہ کوئی قربانی استقلال کے بغیر قبول نہیں ہوتی تو وہاں ہمیں وہ یہ بھی بتا تا ہے کہ بغیر مشقت برداشت کئے کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی اور وہ شخص جو چاہتا ہے کہ بغیر مشقت برداشت کئے دین و دنیا میں کامیابی حاصل کرلے وہ پاگل اور احمق ہے اور اسے کسی جگہ بھی کی کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔آج ہمارے سامنے دنیا کی تین قو میں موجود ہیں جن میں سے دو ہمارے سامنے گریں اور کی پھر ہمارے سامنے ہی بلند ہوئیں اور ایک جو پہلے کمزور تھی مگر ہماری زندگیوں میں بیدار ہوئی اور کی اس نے ترقی کی۔ہم میں سے وہ لوگ جو میں چالیس سال کی عمر کے ہیں وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ وہ تو میں ان کی آنکھوں کے سامنے گریں اور پھر ان کی آنکھوں کے سامنے ہی اٹھیں۔وہ اٹلی اور جرمنی ہیں اور جو پہلے کمزور تھی اور دیکھتے دیکھتے بڑھ گئی وہ جاپان ہے۔جرمنی قوم ہماری آنکھوں کے سامنے ۱۹۱۸ء میں گری ۱۹۲۸ ء میں اس نے اٹھنا شروع کیا اور ۱۹۳۵ ء یا ۱۹۳۸ء میں وہ منتھا ئے طاقت کو جا پہنچی لیکن کن قربانیوں کے ساتھ ؟ ایسی قربانیوں کے ساتھ جو ایک یا دو نے نہیں بلکہ سارے ملک نے کیں۔ہماری جماعت بھی قربانیاں کرتی ہے لیکن اُن قربانیوں کی کو اگر دیکھا جائے جو جرمن قوم نے کیں تو ایک نقطہ نگاہ سے ہماری قربانیاں ان کے مقابلہ میں بالکل بیچ ہو جاتی ہیں۔گو ایک دوسرے نقطہ نگاہ سے ہماری قربانیاں ان سے بڑھی ہوئی ہیں۔اخلاقی لحاظ سے ہماری قربانیاں بڑی ہیں اور عملی لحاظ سے اُن کی قربانیاں بڑی ہیں۔انہوں نے اپنے کھانے ، پینے، پہننے اور قریباً زندگی کے ہر عمل پر ایسی حد بندیاں لگائی ہوئی ہیں جن کو سنج کر حیرت ہوتی ہے اور کوئی شخص ان حد بندیوں کو نہیں تو ڑ سکتا۔گورنمنٹ ایک قانون بنا دیتی ہے ہے اور تمام لوگوں کو کیا مرد اور کیا عورتیں اور کیا بچے اس قانون کی اتباع کرنی پڑتی۔اور رات دن وہ قربانیاں کرتے چلے جاتے ہیں اس لحاظ سے یقیناً ان کی قربانیاں بہت زیادہ ہیں۔لیکن ایک لحاظ سے ہماری قربانیاں اُن سے بڑھی ہوئی ہیں اور وہ اس طرح کہ ان کو طاقت کے زور سے چلایا جاتا ہے اور ہم میں سے ہر شخص اخلاص اور اپنی مرضی سے قربانی میں حصہ لیتا ہے اور اصل قربانی دراصل وہی ہوتی ہے جو اپنی رضا اور اپنی مرضی سے کی جائے۔پس اخلاقی اور مذہبی لحاظ سے ہماری قربانی اُن سے بہت زیادہ ہے کیونکہ مرضی سے قربانی کرنا ہی