خطبات محمود (جلد 19)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 741 of 948

خطبات محمود (جلد 19) — Page 741

خطبات محمود ۷۴۱ سال ۱۹۳۸ء یا درکھو حقیقی انسان وہی ہے جس کے مرنے پر لوگوں کو یہ خیال ہو کہ آج فلاں کی موت سے جو خلا پیدا ہو گیا ہے اس کو پُر کرنے والا کوئی نظر نہیں آتا۔ میں نے دیکھا ہے کہ لڑکوں اور لڑکیوں کی تربیت میں ابھی بہت نقص ہے اور اس طرف خاص توجہ کی ضرورت ہے۔ مجھے اکثر بچیوں کی پیشانی پر ابھی وہ بات نظر نہیں آتی جو ان کے نو را ایمان کو کامل طور پر ظاہر کرنے والی ہو ۔ بہت تو بہت تھوڑے بچے اور نوجوان ؟ اور نوجوان میں نے ایسے دیکھے ہیں کہ جن کی پیشانی پر میں نے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ لکھا ہوا دیکھا ہو اور وہ خدا تعالیٰ کے انعامات کو حاصل کرنے کے لئے پوری جدو جہد کرتے ہوں ۔ اسی طرح میں بڑوں کو بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ وہ اس امر پر غور کریں کہ وہ رات دن کے اوقات میں سے کتنا وقت خدا کے لئے خرچ کرتے ہیں۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں اگر جماعت یہ عزم کرلے کہ اگلے سال وہ دگنی ہو جائے گی تو يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللهِ افَوَاجًا " کا زمانہ بہت جلد آ سکتا ہے۔ اگر جماعت متحدہ طور پر ہمت نہیں کرتی تو کم از کم افراد یہ عہد کر لیں کہ وہ ایک ایک آدمی کو احمدی بنا کر دم لیں گے ۔ یاد رکھو ایک ہی چیز ہے جس سے زندگی ملتی ہے اور وہ موت ہے۔ جب تک انسان موت قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا اس وقت تک وہ حقیقی زندگی نہیں پا سکتا ۔ نطفہ کا کیڑا بھی زندہ ہی ہوتا ہے لیکن جب وہ ماں کے پیٹ میں موت قبول کر کے ایک دوسری زندگی حاصل کرتا ہے تو اس کی وہ زندگی پہلی زندگی سے کتنی اعلیٰ اور کتنی بلند ہوتی ہے۔ کچھ عرصہ ہوا جب میں یہاں آیا تھا تو جماعت میں اس وقت صرف بیس پچیس دوست تھے میں نے نماز جمعہ پڑھائی تو میر قاسم علی صاحب ( مرحوم ) بڑے خوش تھے اور کہتے تھے اب تو ہم پچیس ہو گئے لیکن خدا تعالیٰ کے فضل سے اب ڈیڑھ دو سو کے قریب یہاں ہماری جماعت کے آدمی ہیں اور اگر ہماری جماعت دعاؤں ، اچھے نمونہ اور اصلاح وارشاد کے ذریعہ سے کوشش کرے تو ایک سال کے اندر اندر اپنی تعداد سے دُگنی ہو سکتی ہے۔ بعض لوگوں کو شکوہ ہے کہ میں ان کی دعوت قبول نہیں کر سکا لیکن انہیں سوچنا چاہئے کہ ایک آدمی آخر کہاں تک کھا سکتا ہے۔ میرا اصل کام خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت ہے اور جو شخص اس کام میں میری مدد کرتا ہے ہے اور میں مدد وہی میرا دوست ہے۔ یہی وہ مہمان نوازی ہے جو ہر شخص کر سکتا ہے۔ پس میری اگر خواہش ہے